Madarik-ut-Tanzil - An-Nahl : 100
جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَهَا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْزِی اللّٰهُ الْمُتَّقِیْنَۙ
جَنّٰتُ : باغات عَدْنٍ : ہمیشگی يَّدْخُلُوْنَهَا : وہ ان میں دخل ہوں گے تَجْرِيْ : بہتی ہیں مِنْ تَحْتِهَا : ان کے نیچے سے الْاَنْهٰرُ : نہریں لَهُمْ : انکے لیے فِيْهَا : وہاں مَا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے كَذٰلِكَ : ایسی ہی يَجْزِي : جزا دیتا ہے اللّٰهُ : اللہ الْمُتَّقِيْنَ : پرہیزگار (جمع)
اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسو سے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔
100: اِنَّمَا سُلْطٰنُہٗ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہٗ (بیشک اس کا غلبہ ان لوگوں پر ہے جو اس سے دوستی اختیار کرنے والے ہیں) اس کو دوست بناتے ہیں اور اس کے وساوس کی اتباع کرتے ہیں۔ وَالَّذِیْنَ ھُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ (اور ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کا اس کو شریک کرنے والے ہیں) ۔ ربّ کی طرف ضمیر لوٹتی ہے۔ نمبر 2: شیطان کی طرف لوٹتی ہے اور باء سببیہ ہے وہ اس کے سبب سے شرک کرنے والے ہیں۔
Top