Madarik-ut-Tanzil - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے
اپنے کو بیکار سمجھنا : 115: اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا (پس کیا تم نے یہ خیال کرلیا تھا کہ ہم نے تم کو محض بیکار پیدا کیا ہے) نحو : عبثا یہ حال ہے اس حال میں کہ تم بیکار قرار دینے والے تھے۔ نمبر 2۔ مفعول لہ یعنی للبعث ہم نے تم کو بیکاری کیلئے پیدا کیا ہے۔ وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَاتُرْجَعْوْنَ (اور تم ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لائے جائو گے) قرات : حمز ہ وعلی و یعقوب نے تائؔ کے فتحہ اور جیم کے کسرہ سے پڑھا ہے اور اس صورت میں اس کا عطف انما خلقنا کم پر ہے یا عبثًا پر ہے۔ یعنی بیکاری کیلئے اور اس لئے تاکہ ہم تمہیں بغیر لوٹائے چھوڑ دیں گے ؟ بلکہ ہم نے تمہیں مکلف بنایا تاکہ پھر تکلیف کے مقام سے دارا الجزاء کی طرف لوٹا کر محسن کو ثواب اور گناہ گار کو سزا دیں۔
Top