Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے
وہ جس کی مملکت کو زوال نہیں : 116: فَتَعٰلَی اللّٰہُ (پس بہت عالی شان ہے) اس سے کہ بےکار پیدا کرے۔ الْمَلِکُ الْحَقُّ (سچا بادشاہ) وہ ذات جس کو بادشاہی لائق ہے کیونکہ ہر چیز اسی نے بنائی اور اسی کی طرف لوٹ کر جائے گی۔ نمبر 3۔ وہ قائم رہنے والی ذات ہے کہ جس پر زوال نہیں اور نہ اس کی مملکت کو زوال ہے۔ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْمِ (اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی بزرگی والے عرش کا مالک ہے) عرش کی صفت کرم سے فرمائی گئی ہے کیونکہ رحمت الٰہی اسی سے زمین پر اترتی ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ اس عرش کی نسبت اس ذات کی طرف ہے جو اکرم الاکرمین ہے۔ قراءت : شاذہ میں الکریم کو ضمہ سے پڑھا گیا ہے اور ربؔ کی صفت بنائی ہے۔
Top