Madarik-ut-Tanzil - Ash-Shura : 9
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
اَمِ : یا اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا رکھا ہے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ سرپرست فَاللّٰهُ : پس اللہ تعالیٰ هُوَ الْوَلِيُّ : وہی سرپرست ہے وَهُوَ : اور وہ يُحْيِ : زندہ کرے گا الْمَوْتٰى : مردوں کو وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے
کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
حقیقی کارساز اللہ تعالیٰ ہے : 9: اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآ ئَ فَاللّٰہُ ھُوَ الْوَلِیُّ (کیا ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کارساز قرار دے رکھے ہیں پس اللہ تعالیٰ ہی کارساز ہے) نحو : فاء فاللہ کی شرط مقدر کا جواب ہے۔ گویا اس کے سواہر ایک کی کارسازی سے انکار کے بعد فرمایا کہ اگر وہ حقیقی کارساز کے طالب ہیں تو اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی وہی حقیقی کارساز ہے۔ اور ضروری ہے کہ اسی کی دوستی اختیار کی جائے کوئی اور کارساز اس کے سوا ہے ہی نہیں۔ وَھُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ (اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہی ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے) پس وہی اس لائق ہے کہ اس کو کارساز بنایا جائے۔ نہ کہ وہ جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتے۔
Top