Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 9
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
اَمِ : یا اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا رکھا ہے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ سرپرست فَاللّٰهُ : پس اللہ تعالیٰ هُوَ الْوَلِيُّ : وہی سرپرست ہے وَهُوَ : اور وہ يُحْيِ : زندہ کرے گا الْمَوْتٰى : مردوں کو وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے
کیا ان لوگوں نے اللہ کے سوا کارساز بنائے ہیں ! (اور ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں) حالانکہ کارساز تو اللہ ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہی ہر شئے پر قادر ہے
کیا انہوں نے اللہ ربِّ کریم کو چھوڑ کر دوسروں کو اپنا کار ساز بنا لیا ہے ؟ 9 ؎ گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا جا چکا ہے کہ جو لوگ بےراہ ہوگئے ہیں ان کا کوئی حامی و ناصر قیامت کے روز نہیں ہوگا اور جو آسرے اور سہارے انہوں نے بنا رکھے ہیں سب کے سب یک قلم ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ اب اس کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ جو لوگ جان بوجھ کر اور اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی بجائے اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اس کی مخلوق میں سے جس کو چاہتے ہیں اپنا کار ساز بنا لیتے ہیں انہیں ان سے کیا فائدہ حاصل ہوگا ؟ بھلا جو اپنی بگڑی نہیں بنا سکتے وہ ان کا کیا بھلا کریں گے جو خود مشکلات میں گھرے رہے اور دوسروں کو مشکلات سے کیا نکالیں گے۔ کیا ان میں سے وہ کسی ایک کا نام لے سکتے ہیں جو اپنی حاجتوں کو خود پورا کرنے والا تھا ؟ نہیں اور ہرگز نہیں وہ تو سب کے سب اپنی حاجات و مشکلات میں اللہ ربِّ کریم ہی کو پکارتے رہے ، اسی کے سامنے گڑگڑاتے رہے اور اسی کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہے ، اپنی ضروریات اسی سے طلب کرتے رہے بلاشبہ وہی ہے جو مردہ دلوں کو زندگی بخشتا ہے اور ہی ہے جس نے اس کائنات کے ایک ایک ذرہ کو پہلی بار پیدا کیا اور وہی ہے جو مردوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا اور یہ کام چشم زدن میں ہوجائے گا جس میں ذرا بھی دیر نہیں لگے گی کیونکہ اس نے دنیا کے لیے بھی ضابطے مقرر کردیئے ہیں اور آخرت کے لیے بھی اس نے ایک قانون بنا دیا جس کا اعلان کردیا گیا ہے پھر یہ سب کچھ ہو چکنے کے بعد کیا کی ضرورت کیا رہی کہ اس کو چھوڑ کر کسی ایرے غیرے اور نتھو خیرے کے پیچھے دوڑا جائے مشرکین کی مت معلوم نہیں کیوں ماری گئی۔
Top