Tafseer-e-Majidi - Aal-i-Imraan : 198
لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ
لٰكِنِ : لیکن الَّذِيْنَ : جو لوگ اتَّقَوْا : ڈرتے رہے رَبَّھُمْ : اپنا رب لَھُمْ : ان کے لیے جَنّٰتٌ : باغات تَجْرِيْ : بہتی ہیں مِنْ : سے تَحْتِھَا : ان کے نیچے الْاَنْھٰرُ : نہریں خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہیں گے فِيْھَا : اس میں نُزُلًا : مہمانی مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ : سے اللہ کے پاس وَمَا : اور جو عِنْدَ اللّٰهِ : اللہ کے پاس خَيْرٌ : بہتر لِّلْاَبْرَارِ : نیک لوگوں کے لیے
البتہ جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں ان کے لیے باغ ہوں گے، جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ (ہمیش) رہیں ٗ گے (یہ تو) مہمانی (ہوگی) اللہ کی طرف سے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ نیکوں کے حق میں کہیں بہتر ہے،414 ۔
414 ۔ (ہر دنیوی لذت ونعمت سے، کیفیت میں، کمیت میں، غرض ہر اعتبار وہر جہت سے) (آیت) ” وما عنداللہ “۔ یعنی اخروی نعمتوں کی قسموں میں سے۔ (آیت) ” اتقوا ربھم “۔ اور اس تقوی الہی کی پہلی منزل قبول اسلام ہے۔ (آیت) ” نزلا من عندا للہ “۔ اللہ نے اہل جنت کو اپنا ” مہمان “ ٹھہرا کر ان کا مرتبہ اعزاز واکرام جس حد تک بڑھا دیا ہے الفاظ اس کے ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ النزل مایھیا للضیف (کبیر)
Top