Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
129
130
131
132
133
134
135
136
137
138
139
140
141
142
143
144
145
146
147
148
149
150
151
152
153
154
155
156
157
158
159
160
161
162
163
164
165
166
167
168
169
170
171
172
173
174
175
176
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Mazhari - An-Nisaa : 123
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ
ثُمَّ
: پھر
خَلَقْنَا
: ہم نے بنایا
النُّطْفَةَ
: نطفہ
عَلَقَةً
: جما ہوا خون
فَخَلَقْنَا
: پس ہم نے بنایا
الْعَلَقَةَ
: جما ہوا خون
مُضْغَةً
: بوٹی
فَخَلَقْنَا
: پھر ہم نے بنایا
الْمُضْغَةَ
: بوٹی
عِظٰمًا
: ہڈیاں
فَكَسَوْنَا
: پھر ہم پہنایا
الْعِظٰمَ
: ہڈیاں
لَحْمًا
: گوشت
ثُمَّ
: پھر
اَنْشَاْنٰهُ
: ہم نے اسے اٹھایا
خَلْقًا
: صورت
اٰخَرَ
: نئی
فَتَبٰرَكَ
: پس برکت والا
اللّٰهُ
: اللہ
اَحْسَنُ
: بہترین
الْخٰلِقِيْنَ
: پید ا کرنے والا
پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے
ثُمَّ خَلَقْنَا پھر ہم نے بنا دیا۔ سفید نطفہ کو سرخ خون کا لوتھڑا۔ مُضْغَۃً گوشت کی بوٹی اتنی جو چبانے کے بقدر ہو۔ گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنا دینے کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کو سخت کردیا۔ مضغہ کا جو حصہ ہڈی ہونے سے باقی رہا اس کا گوشت بنا کر ہم نے ہڈیوں کو اس گوشت کا لباس پہنا دیا (ہڈیوں پر چڑھا دیا) ۔ ثم انشانہ خلقا اخر پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنا دیا۔ اَنْشَاْنٰہُمیں ہ ضمیر سلالۃ کی طرف راجع ہے یا انسان کی طرف۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ضحاک اور ابوالعالیہ نے کہا خلق آخر سے مراد ہے روح پھونکنا۔ میں کہتا ہوں ان حضرات کے اقوال میں شاید روح سے مراد ‘ روح سفلی یعنی روح حیوانی ہوتی ہے اور نفس سے مراد ہوتی ہے روح علوی کی سواری ‘ روح علوی کا تعلق عالم ارواح سے ہے اس کی قرارگاہ نظر کشف میں عرش کے اوپر ہے یہ مکانی چیز نہیں ہے اور نفس ایک بخار لطیف کا نام ہے جو عناصر سے پیدا ہوتا ہے اور جسم کی ہیئت کو اختیار کرلیتا ہے یہ جسم کثیف میں سرایت کئے ہوئے ہے چونکہ روح سے مراد روح سفلی ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ سلالہ سے پیدا ہوتی ہے۔ روح علوی کی پیدائش گاہ سلالہ سے نہیں اس لئے آیت میں روح علوی مراد نہیں ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ علوی ارواح کی تخلیق تو اجسام کی تخلیق پر مقدم ہے جب اللہ نے ارواح سے میثاق لیا تھا اس وقت اجسام تو موجود بھی نہ تھے۔ نفخ روح کیا ہے ؟ نفخ روح اللہ کی ایک صفت ہے (جس کا وجود قدیم ہے) اللہ نے فرمایا (وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ ) جب ہڈیاں گوشت کا جامہ پہن لیتی ہیں تو اس صفت کا تعلق جسم سے ہوجاتا ہے (گویا روح کا جسم سے تعلق حادث ہے اور روح بجائے خود قدیم ہے۔ ہاں اگر آیت میں انشاء پیدا کرنے سے مراد نفخ روح ہو پیدا کرنا نہ ہو تو اس توجیہہ کی ضرورت نہیں) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کا مادہ تخلیق ماں کے پیٹ میں بشکل نطفہ چالیس روز تک جمع رکھا جاتا ہے پھر وہ مادہ خون کا لوتھڑا ہوجاتا ہے اور اس حالت میں اتنی ہی مدت تک رہتا ہے پھر گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے اور اتنی ہی مدت تک (بوٹی کی شکل پر) رہتا ہے پھر اللہ فرشتہ کو چار احکام دے کر بھیجتا ہے فرشتہ اس کے (اچھے برے) اعمال اور مدت زندگی اور رزق اور سعید یا شقی ہونا (مؤمن یا کافر ہونا جنتی یا دوزخی ہونا) لکھ دیتا ہے پھر اس کے اندر روح پھونکی جاتی ہے پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کچھ لوگ (ساری عمر) جنتیوں کے جیسے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن (تخلیقی) تحریر غالب آتی ہے اور وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگتے ہیں (اور انہی اعمال پر خاتمہ ہوجاتا ہے) اور بعض لوگ (ساری عمر) دوزخیوں کے جیسے کام کرتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز سے زیادہ فاصلہ نہیں رہتا آخر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے عمل کرنے لگتے ہیں (اور اسی پر ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے) متفق علیہ۔ بخاری و مسلم۔ ایک سوالآیت میں نطفہ کا علقہ بن جانا اور علقہ کا مضغہ بن جانا اور مضغہ کا ہڈیوں میں تبدیل ہونا اور ہڈیوں پر گوشت چڑھ جانا۔ حرف فا کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حالات کا تبادلہ فوراً بلا تاخیر ہوجاتا ہے لیکن ان تمام تبدیلات کے درمیان حدیث میں لفظ ثُمَّکا استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تغیرات کافی وقفے کے بعد ہوتے ہیں۔ اس طرح آیت و حدیث کے بیان میں بظاہر تضاد و اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ جواب رسول اللہ ﷺ نے ہر دو حالتوں کی تبدیل کے درمیان چالیس روز کی مدت کی صراحت فرمائی ہے اس صورت میں لفظ ثُمَّکا استعمال ہونا ہی چاہئے تھا (جب ایک کام کے بعد دوسرا کام تاخیر اور واقفہ کے ساتھ ہو تو لفظ ثُمَّ استعمال کیا ہی جاتا ہے) لیکن یہ باہمی تبدیلیاں اگرچہ چالیس چالیس روز کی مدت میں ہوتی ہیں مگر اتنی عظیم الشان اور نمایاں ہوتی ہیں کہ چالیس چالیس روز کا وقفہ بھی ایسی تبدیلی کے لئے کچھ حیثیت نہیں رکھتا (گویا یہ وقفہ وقفہ ہی نہیں ہے) اس لئے اللہ کے کلام میں لفظذکر کیا گیا ہے (تا کہ معلوم ہوجائے کہ ایک ایک چلہ گزرتا اور ہر تبدیلی کا ایک چلہ کے بعد مکمل ہونا بھی ایسے عظیم الشان تغیرات کے لئے بےحقیقت ہے گویا یہ کوئی وقفہ ہی نہیں ہے) ۔ پھر آیت کے طرز اور اسلوب بیان میں بھی اختلاف ہے اوّل دونوں حالتوں کو لفظ ثم سے ظاہر کیا گیا ہے پھر تین حالتوں کے تغیر کے درمیان لفظاستعمال کیا ہے پھر انشاء تخلیق آخر کو لفظ ثم کے ساتھ بیان کیا ہے طرز بیان کی یہ نیرنگی تغیرات کے تفاوت و تنوع کی طرف اشارہ کر رہی ہے سلالۂ (غذائی) کا نطفہ بن جانا بہت ہی عظیم الشان اور عجیب ہے پھر پشت پدر اور سینۂ مادر میں ایک طویل مدت تک استقرار پھر رحم مادر میں پہنچ کر مخلوط ہو کر چالیس روز تک بصورت نطفہ ٹھہرا رہنا بھی مدت شان رکھتا ہے پھر نطفہ کا چالیس روز میں علقہ بن جانا بھی بہت نمایاں اور عظیم تغیر ہوتا ہے اس لئے ہر تغیر کو لفظ ثم سے ظاہر کیا لیکن علقہ کا مضغہ بن جانا اور مضغہ کے بعض اجزاء کا سخت ہو کر ہڈیاں بن جانا اور کچھ حصہ باقی رہ کر گوشت ہوجانا اتنا عظیم تغیر نہیں جتنا اوّل الذکر دونوں صورتوں میں ہوتا ہے اور چونکہ تخلیق آخر کا زمانہ بہت دیر میں آتا ہے اور اتنا عجیب ہوتا ہے کہ کایا پلٹ جاتی ہے اس لئے آخر میں لفظ ثم سے اس انقلاب کو ظاہر کرنے کے لئے نہایت ضروری تھا۔ مسئلہ اگر کسی نے کوئی انڈا غصب کیا اور غاصب کے پاس پہنچ کر انڈے سے بچہ نکل آیا اور پھر بچہ مرگیا یا حرم کے اندر سے انڈا باہر نکال کرلے آیا اور حرم سے باہر انڈے سے بچہ پیدا ہوگیا تو دونوں صورتوں میں انڈے کا ضمان (تاوان) دینا پڑے گا کیونکہ بچہ کا پیدا ہونا تخلیق آخر ہے اور اسی دور میں روح سفلی یعنی روح حیوانی پیدا ہوجاتی ہے اس لئے ضمان کا تعلق تخلیق اوّل سے ہی ہوگا۔ قتادہ نے کہا انشاء خلق آخر سے مراد ہے دانت اور بال نکل آنا۔ ابن جریح نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ مکمل جوان ہونا مراد ہے۔ حسن نے کہا نر یا مادہ ہونا مراد ہے۔ عوفی کی روایت حضرت ابن عباس ؓ : کا تفسیری قول ہے کہ انشاء تخلیق آخر سے زندگی کے سارے تدریجی تغیرات اور انقلابات مراد ہیں پیدا ہونا ‘ پھر چیخنا ‘ پھر دودھ پینا ‘ پھر آہستہ آہستہ بیٹھنا پھر رفتہ رفتہ کھڑا ہونا پھر چلنا اور دودھ ترک کر کے کچھ غذائی چیزیں کھانا ‘ پینا ‘ پھر بچپن سے دھیرے دھیرے جوانی کی حدود میں داخل ہونا اور ملک ملک میں گھومنا پھرنا سب ہی انشاء خلق آخر کی صورتیں ہیں۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ انشاء تخلیق آخر سے مراد دوسری ولادت ہو جو صوفی کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مرتبۂ فنا پر پہنچ جاتا ہے اور تمام بیہمی اور سبعی بشری صفات سے نکل کر ملکوتی صفات اختیار کرلیتا ہے اور پھر ملکوتی صفات سے ترقی کر کے رحمانی صفات کی طرف منتقل ہوتا ہے اور بقاء باللہ یا بقاء بصفات اللہ کے مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے۔ لفظ ثم کا استعمال کرنے کی یہ وجہ زیادہ مناسب ہے۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین۔ (تخلیق کے گزشتہ احوال دلیل ہیں اس امر کی کہ) اللہ کی بہت بڑی شان ہے ہے جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے۔ تَبٰرَکَ اللّٰہُیعنی اللہ کی شان اعلیٰ و برتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنا کوئی شریک بنائے یا اس کے احکام کی پابندی اور تعمیل میں سستی کی جائے۔ فَتَبٰرَکَمیںسببیت کے لئے ہے (گزشتہ کلام آئندہ کلام کی علت ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ تخلیق خداوندی کی گزشتہ کیفیت اور مذکورۂ بالا احوال اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کی قدرت کامل ہے اس کی حکمت بالغہ ہے اس کی شان کی عظمت اور اس کے مرتبہ کی رفعت مقتضی ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ شریک ہونا ممکن ہے وہ احسن الخالقین ہے۔ معتزلہ کا قول معتزلہ فرقہ والے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے یعنی بندہ ہی اپنے اختیاری افعال کو پیدا کرتا ہے دیکھو اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ خالق بہت ہیں اور اللہ سب سے اچھا خالق ہے۔ (تفصیل کا تحقق اور تصور بغیر مفضل علیہ کے وجود کے نہیں ہوسکتا) ہم اسکے جواب میں کہتے ہیں کہ تمام عقلی اور شرعی دلائل سے ثابت ہے کہ بندوں کے سارے اختیاری افعال کا خالق اللہ ہی ہے۔ بندہ خالق نہیں ہے اللہ نے فرمایا ہے (خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔ جس ممکن کا وجود بھی اپنا نہیں اللہ کا عطا کردہ ہے اس کی ذات مقتضی وجود نہیں وہ دوسرے کو کیسے وجود دے سکتا ہے۔ تمام صحابہ اور علماء امت کا اتفاق ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔ رہا معتزلہ کے اعتراض کا جواب تو اس کی توضیح کے لئے ہم کہتے ہیں کہ لفظ خلق میں ہمارا کوئی جھگڑا نہیں اس لفظ کا اطلاق تو بندے پر بھی ہوا ہے ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تھا اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْءَۃِ الطَّیْرِ ۔ اللہ نے خود فرمایا ہے وَتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا لیکن بندے کی طرف جب لفظ خلق کی نسبت کی جاتی ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے بنانا ‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل کی ایک چیز بناتا ہوں اور تم جھوٹ بناتے ہو۔ اس میں کوئی نزاع نہیں کہ لفظ خلق کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے ‘ لیکن اس وقت خلق کا معنی ایجاد معدوم نہیں ہوتا بلکہ کسب اور صنعت ہوتا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ انسان کو اپنے اختیار سے افعال کو کرنے نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اس کے ارادے اور اختیار کو اپنے اعمال میں دخل ہے یہی ارادہ و اختیار مدار تکلیف ہے۔ تمام اوامرو نواہی کا مکلف بندے کو اسی اختیار کی وجہ سے کیا گیا ہے ثواب و عذاب بھی انہی اختیاری افعال پر مرتب ہوتا ہے ‘ ہم اسی کو کسب کہتے ہیں۔ پس بندہ ’ کا سب ‘ ہے لیکن بندہ کا یہ ارادہ اور اختیار ایجاد معدوم کے لئے بالکل کافی نہیں نہ یہ کسی جوہر کو موجود کرسکتا ہے نہ کسی عرض (یعنی عمل اور حالت) کو ایجاد تو اللہ ہی کی قدرت و اختیار سے وابستہ ہے جب اللہ کی قدرت و اختیار کسی مخلوق سے وابستہ ہوجاتا ہے تو ہم اس کو تخلیق کہتے ہیں اور اختیار عہد کو بھی اس میں دخیل بنا لیا جائے تو یہ کسب عہد کہلاتا ہے ‘ لیکن کسب عبد موجد نہیں۔ موجد تو وہ قدرت و ارادہ ہے جس نے کسب عبد کو بعض چیزوں میں دخیل بنایا ہے بندہ کی طرف لفظ خلق کی نسبت سے یہ سمجھ لینا کہ بندہ اپنے افعال کا خود موجد ہے غلط ہے۔ ہاں بندے کو کا سب اور بنانے والا کہہ سکتے ہیں اسی لئے مجاہد نے کہا تھا کہ بندے بھی بناتے ہیں اور اللہ بھی بناتا ہے اور اللہ سب صناعوں سے بہتر بنانے والا ہے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ الخالقین کا معنی ہے صورتیں بنانے والے یا اندازہ کرنے والے۔ لغت میں خلق کا معنی ہے اندازہ کرنا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ کلام کی بنا فرض محال پر ہے اور فرض محال ناممکن نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ دوسرے بھی خالق ہیں تب بھی اللہ سب سے اچھا خالق ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر ؓ : کا قول نقل کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا چار باتوں میں (اتفاقاً ) میری موافقت اپنے رب سے ہوگئی۔ ایک یہ کہ جب وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلٰۃٍ ۔۔ نازل ہوئی تو اس کے آخر میں میری زبان سے نکل گیا فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ چناچہ آخر میں یہی الفاظ نازل ہوگئی۔ (الحدیث) حضرت عمر ؓ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک آیت سے کم قرآنی عبارت معجزہ نہیں ہے نازل ہونے سے پہلے دوسرے انسانوں کی زبان سے بھی اتنی عبارت نکل سکتی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ ﷺ : کا کاتب تھا (وحی نازل ہوتی تو آپ اس سے وحی کی کتابت بھی کرا لیا کرتے تھے) ایک بار رسول اللہ ﷺ کے لکھوائے بغیر یہ جملہ اس نے آیت مذکورہ کے اختتام پر زبان سے کہہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح لکھ دے یہ یوں ہی نازل ہوا ہے عبداللہ نے (لوگوں سے) کہا اگر محمد نبی ہیں ان کے پاس وحی آتی ہے تو میں بھی نبی ہوں میرے پاس بھی وحی آتی ہے یہ کہہ کر اسلام سے پھر گیا اور مکہ چلا گیا کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو جہاں اور چند لوگوں کو حضور ﷺ نے واجب القتل قرار دیا وہاں اس کو بھی مباح الدم قرار دے دیا اور حکم دے دیا کہ جہاں ملے قتل کردیا جائے۔ عبداللہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر سفارش کا خواستگار ہوا حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لئے امان کی درخواست کی۔ حضور ﷺ دیر تک خاموش رہے ‘ پھر دیر کے بعد فرمایا اچھا۔ (عبداللہ کو امان مل گئی) حضرت عثمان ؓ واپس چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا (تم نے میرے اچھا کہنے سے پہلے ہی اس کو قتل کیوں نہیں کردیا) میں تو دیر تک اسی لئے خاموش رہا تھا کہ تم اس کو قتل کر دو ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حضور ﷺ نے ہم کو اشارہ کیوں نہ کردیا۔ فرمایا نبی کے لئے یہ زیبا نہیں کہ نگاہ کی چوری کرے۔ عبداللہ اسی روز دوبارہ مسلمان ہوگیا اور پھر اس کا اسلام اچھا رہا۔ میں کہتا ہوں سبیل الرشاد میں عبداللہ کا مرتد ہونا اور فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے مباح الدم ہونا اور حضرت عثمان کا سفارش کرنا یہ سب کچھ مذکور ہے لیکن وجہ ارتداد یہ ذکر نہیں کی کہ اس کی زبان سے نزول وحی سے پہلے ہی جملۂ مذکورہ نکل گیا تھا اور تاریخی حیثیت سے ایسا ہونا ممکن بھی نہیں کیونکہ عبداللہ مذکور کے ارتداد کا واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اور یہ سورت مکی ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔
Top