Tafseer-e-Mazhari - An-Nisaa : 123
ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا١ۗ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ١ؕ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَؕ
ثُمَّ : پھر خَلَقْنَا : ہم نے بنایا النُّطْفَةَ : نطفہ عَلَقَةً : جما ہوا خون فَخَلَقْنَا : پس ہم نے بنایا الْعَلَقَةَ : جما ہوا خون مُضْغَةً : بوٹی فَخَلَقْنَا : پھر ہم نے بنایا الْمُضْغَةَ : بوٹی عِظٰمًا : ہڈیاں فَكَسَوْنَا : پھر ہم پہنایا الْعِظٰمَ : ہڈیاں لَحْمًا : گوشت ثُمَّ : پھر اَنْشَاْنٰهُ : ہم نے اسے اٹھایا خَلْقًا : صورت اٰخَرَ : نئی فَتَبٰرَكَ : پس برکت والا اللّٰهُ : اللہ اَحْسَنُ : بہترین الْخٰلِقِيْنَ : پید ا کرنے والا
پھر نطفے کا لوتھڑا بنایا۔ پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا۔ پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا۔ تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا بڑا بابرکت ہے
ثُمَّ خَلَقْنَا پھر ہم نے بنا دیا۔ سفید نطفہ کو سرخ خون کا لوتھڑا۔ مُضْغَۃً گوشت کی بوٹی اتنی جو چبانے کے بقدر ہو۔ گوشت کی بوٹی کو ہڈیاں بنا دینے کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کو سخت کردیا۔ مضغہ کا جو حصہ ہڈی ہونے سے باقی رہا اس کا گوشت بنا کر ہم نے ہڈیوں کو اس گوشت کا لباس پہنا دیا (ہڈیوں پر چڑھا دیا) ۔ ثم انشانہ خلقا اخر پھر ہم نے (اس میں روح ڈال کر) اس کو دوسری ہی (طرح کی) مخلوق بنا دیا۔ اَنْشَاْنٰہُمیں ہ ضمیر سلالۃ کی طرف راجع ہے یا انسان کی طرف۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ضحاک اور ابوالعالیہ نے کہا خلق آخر سے مراد ہے روح پھونکنا۔ میں کہتا ہوں ان حضرات کے اقوال میں شاید روح سے مراد ‘ روح سفلی یعنی روح حیوانی ہوتی ہے اور نفس سے مراد ہوتی ہے روح علوی کی سواری ‘ روح علوی کا تعلق عالم ارواح سے ہے اس کی قرارگاہ نظر کشف میں عرش کے اوپر ہے یہ مکانی چیز نہیں ہے اور نفس ایک بخار لطیف کا نام ہے جو عناصر سے پیدا ہوتا ہے اور جسم کی ہیئت کو اختیار کرلیتا ہے یہ جسم کثیف میں سرایت کئے ہوئے ہے چونکہ روح سے مراد روح سفلی ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ یہ سلالہ سے پیدا ہوتی ہے۔ روح علوی کی پیدائش گاہ سلالہ سے نہیں اس لئے آیت میں روح علوی مراد نہیں ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ علوی ارواح کی تخلیق تو اجسام کی تخلیق پر مقدم ہے جب اللہ نے ارواح سے میثاق لیا تھا اس وقت اجسام تو موجود بھی نہ تھے۔ نفخ روح کیا ہے ؟ نفخ روح اللہ کی ایک صفت ہے (جس کا وجود قدیم ہے) اللہ نے فرمایا (وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُوْحِیْ ) جب ہڈیاں گوشت کا جامہ پہن لیتی ہیں تو اس صفت کا تعلق جسم سے ہوجاتا ہے (گویا روح کا جسم سے تعلق حادث ہے اور روح بجائے خود قدیم ہے۔ ہاں اگر آیت میں انشاء پیدا کرنے سے مراد نفخ روح ہو پیدا کرنا نہ ہو تو اس توجیہہ کی ضرورت نہیں) ۔ حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت ہے کہ اللہ کے سچے رسول ﷺ نے فرمایا تم میں سے ہر شخص کا مادہ تخلیق ماں کے پیٹ میں بشکل نطفہ چالیس روز تک جمع رکھا جاتا ہے پھر وہ مادہ خون کا لوتھڑا ہوجاتا ہے اور اس حالت میں اتنی ہی مدت تک رہتا ہے پھر گوشت کی بوٹی بن جاتا ہے اور اتنی ہی مدت تک (بوٹی کی شکل پر) رہتا ہے پھر اللہ فرشتہ کو چار احکام دے کر بھیجتا ہے فرشتہ اس کے (اچھے برے) اعمال اور مدت زندگی اور رزق اور سعید یا شقی ہونا (مؤمن یا کافر ہونا جنتی یا دوزخی ہونا) لکھ دیتا ہے پھر اس کے اندر روح پھونکی جاتی ہے پس قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں تم میں سے کچھ لوگ (ساری عمر) جنتیوں کے جیسے کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ان کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے لیکن (تخلیقی) تحریر غالب آتی ہے اور وہ دوزخیوں کے کام کرنے لگتے ہیں (اور انہی اعمال پر خاتمہ ہوجاتا ہے) اور بعض لوگ (ساری عمر) دوزخیوں کے جیسے کام کرتے ہیں ‘ یہاں تک کہ ان کے اور دوزخ کے درمیان ایک گز سے زیادہ فاصلہ نہیں رہتا آخر تقدیر کا لکھا غالب آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے عمل کرنے لگتے ہیں (اور اسی پر ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے) متفق علیہ۔ بخاری و مسلم۔ ایک سوالآیت میں نطفہ کا علقہ بن جانا اور علقہ کا مضغہ بن جانا اور مضغہ کا ہڈیوں میں تبدیل ہونا اور ہڈیوں پر گوشت چڑھ جانا۔ حرف فا کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان حالات کا تبادلہ فوراً بلا تاخیر ہوجاتا ہے لیکن ان تمام تبدیلات کے درمیان حدیث میں لفظ ثُمَّکا استعمال کیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تغیرات کافی وقفے کے بعد ہوتے ہیں۔ اس طرح آیت و حدیث کے بیان میں بظاہر تضاد و اختلاف معلوم ہوتا ہے۔ جواب رسول اللہ ﷺ نے ہر دو حالتوں کی تبدیل کے درمیان چالیس روز کی مدت کی صراحت فرمائی ہے اس صورت میں لفظ ثُمَّکا استعمال ہونا ہی چاہئے تھا (جب ایک کام کے بعد دوسرا کام تاخیر اور واقفہ کے ساتھ ہو تو لفظ ثُمَّ استعمال کیا ہی جاتا ہے) لیکن یہ باہمی تبدیلیاں اگرچہ چالیس چالیس روز کی مدت میں ہوتی ہیں مگر اتنی عظیم الشان اور نمایاں ہوتی ہیں کہ چالیس چالیس روز کا وقفہ بھی ایسی تبدیلی کے لئے کچھ حیثیت نہیں رکھتا (گویا یہ وقفہ وقفہ ہی نہیں ہے) اس لئے اللہ کے کلام میں لفظذکر کیا گیا ہے (تا کہ معلوم ہوجائے کہ ایک ایک چلہ گزرتا اور ہر تبدیلی کا ایک چلہ کے بعد مکمل ہونا بھی ایسے عظیم الشان تغیرات کے لئے بےحقیقت ہے گویا یہ کوئی وقفہ ہی نہیں ہے) ۔ پھر آیت کے طرز اور اسلوب بیان میں بھی اختلاف ہے اوّل دونوں حالتوں کو لفظ ثم سے ظاہر کیا گیا ہے پھر تین حالتوں کے تغیر کے درمیان لفظاستعمال کیا ہے پھر انشاء تخلیق آخر کو لفظ ثم کے ساتھ بیان کیا ہے طرز بیان کی یہ نیرنگی تغیرات کے تفاوت و تنوع کی طرف اشارہ کر رہی ہے سلالۂ (غذائی) کا نطفہ بن جانا بہت ہی عظیم الشان اور عجیب ہے پھر پشت پدر اور سینۂ مادر میں ایک طویل مدت تک استقرار پھر رحم مادر میں پہنچ کر مخلوط ہو کر چالیس روز تک بصورت نطفہ ٹھہرا رہنا بھی مدت شان رکھتا ہے پھر نطفہ کا چالیس روز میں علقہ بن جانا بھی بہت نمایاں اور عظیم تغیر ہوتا ہے اس لئے ہر تغیر کو لفظ ثم سے ظاہر کیا لیکن علقہ کا مضغہ بن جانا اور مضغہ کے بعض اجزاء کا سخت ہو کر ہڈیاں بن جانا اور کچھ حصہ باقی رہ کر گوشت ہوجانا اتنا عظیم تغیر نہیں جتنا اوّل الذکر دونوں صورتوں میں ہوتا ہے اور چونکہ تخلیق آخر کا زمانہ بہت دیر میں آتا ہے اور اتنا عجیب ہوتا ہے کہ کایا پلٹ جاتی ہے اس لئے آخر میں لفظ ثم سے اس انقلاب کو ظاہر کرنے کے لئے نہایت ضروری تھا۔ مسئلہ اگر کسی نے کوئی انڈا غصب کیا اور غاصب کے پاس پہنچ کر انڈے سے بچہ نکل آیا اور پھر بچہ مرگیا یا حرم کے اندر سے انڈا باہر نکال کرلے آیا اور حرم سے باہر انڈے سے بچہ پیدا ہوگیا تو دونوں صورتوں میں انڈے کا ضمان (تاوان) دینا پڑے گا کیونکہ بچہ کا پیدا ہونا تخلیق آخر ہے اور اسی دور میں روح سفلی یعنی روح حیوانی پیدا ہوجاتی ہے اس لئے ضمان کا تعلق تخلیق اوّل سے ہی ہوگا۔ قتادہ نے کہا انشاء خلق آخر سے مراد ہے دانت اور بال نکل آنا۔ ابن جریح نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ مکمل جوان ہونا مراد ہے۔ حسن نے کہا نر یا مادہ ہونا مراد ہے۔ عوفی کی روایت حضرت ابن عباس ؓ : کا تفسیری قول ہے کہ انشاء تخلیق آخر سے زندگی کے سارے تدریجی تغیرات اور انقلابات مراد ہیں پیدا ہونا ‘ پھر چیخنا ‘ پھر دودھ پینا ‘ پھر آہستہ آہستہ بیٹھنا پھر رفتہ رفتہ کھڑا ہونا پھر چلنا اور دودھ ترک کر کے کچھ غذائی چیزیں کھانا ‘ پینا ‘ پھر بچپن سے دھیرے دھیرے جوانی کی حدود میں داخل ہونا اور ملک ملک میں گھومنا پھرنا سب ہی انشاء خلق آخر کی صورتیں ہیں۔ میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ انشاء تخلیق آخر سے مراد دوسری ولادت ہو جو صوفی کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ مرتبۂ فنا پر پہنچ جاتا ہے اور تمام بیہمی اور سبعی بشری صفات سے نکل کر ملکوتی صفات اختیار کرلیتا ہے اور پھر ملکوتی صفات سے ترقی کر کے رحمانی صفات کی طرف منتقل ہوتا ہے اور بقاء باللہ یا بقاء بصفات اللہ کے مرتبے پر فائز ہوجاتا ہے۔ لفظ ثم کا استعمال کرنے کی یہ وجہ زیادہ مناسب ہے۔ فتبرک اللہ احسن الخلقین۔ (تخلیق کے گزشتہ احوال دلیل ہیں اس امر کی کہ) اللہ کی بہت بڑی شان ہے ہے جو تمام صناعوں سے بڑھ کر ہے۔ تَبٰرَکَ اللّٰہُیعنی اللہ کی شان اعلیٰ و برتر ہے اس بات سے کہ وہ اپنا کوئی شریک بنائے یا اس کے احکام کی پابندی اور تعمیل میں سستی کی جائے۔ فَتَبٰرَکَمیںسببیت کے لئے ہے (گزشتہ کلام آئندہ کلام کی علت ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ تخلیق خداوندی کی گزشتہ کیفیت اور مذکورۂ بالا احوال اس بات کی دلیل ہیں کہ اللہ کی قدرت کامل ہے اس کی حکمت بالغہ ہے اس کی شان کی عظمت اور اس کے مرتبہ کی رفعت مقتضی ہے کہ اس کا کوئی شریک نہیں اور نہ شریک ہونا ممکن ہے وہ احسن الخالقین ہے۔ معتزلہ کا قول معتزلہ فرقہ والے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے یعنی بندہ ہی اپنے اختیاری افعال کو پیدا کرتا ہے دیکھو اس آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ خالق بہت ہیں اور اللہ سب سے اچھا خالق ہے۔ (تفصیل کا تحقق اور تصور بغیر مفضل علیہ کے وجود کے نہیں ہوسکتا) ہم اسکے جواب میں کہتے ہیں کہ تمام عقلی اور شرعی دلائل سے ثابت ہے کہ بندوں کے سارے اختیاری افعال کا خالق اللہ ہی ہے۔ بندہ خالق نہیں ہے اللہ نے فرمایا ہے (خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوْنَ ) اللہ ہی نے تم کو پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی۔ جس ممکن کا وجود بھی اپنا نہیں اللہ کا عطا کردہ ہے اس کی ذات مقتضی وجود نہیں وہ دوسرے کو کیسے وجود دے سکتا ہے۔ تمام صحابہ اور علماء امت کا اتفاق ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں۔ رہا معتزلہ کے اعتراض کا جواب تو اس کی توضیح کے لئے ہم کہتے ہیں کہ لفظ خلق میں ہمارا کوئی جھگڑا نہیں اس لفظ کا اطلاق تو بندے پر بھی ہوا ہے ‘ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) نے فرمایا تھا اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْءَۃِ الطَّیْرِ ۔ اللہ نے خود فرمایا ہے وَتَخْلُقُوْنَ اِفْکًا لیکن بندے کی طرف جب لفظ خلق کی نسبت کی جاتی ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے بنانا ‘ میں تمہارے لئے مٹی سے پرندے کی شکل کی ایک چیز بناتا ہوں اور تم جھوٹ بناتے ہو۔ اس میں کوئی نزاع نہیں کہ لفظ خلق کی نسبت بندے کی طرف کی جاتی ہے ‘ لیکن اس وقت خلق کا معنی ایجاد معدوم نہیں ہوتا بلکہ کسب اور صنعت ہوتا ہے۔ یہ یقینی بات ہے کہ انسان کو اپنے اختیار سے افعال کو کرنے نہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اس کے ارادے اور اختیار کو اپنے اعمال میں دخل ہے یہی ارادہ و اختیار مدار تکلیف ہے۔ تمام اوامرو نواہی کا مکلف بندے کو اسی اختیار کی وجہ سے کیا گیا ہے ثواب و عذاب بھی انہی اختیاری افعال پر مرتب ہوتا ہے ‘ ہم اسی کو کسب کہتے ہیں۔ پس بندہ ’ کا سب ‘ ہے لیکن بندہ کا یہ ارادہ اور اختیار ایجاد معدوم کے لئے بالکل کافی نہیں نہ یہ کسی جوہر کو موجود کرسکتا ہے نہ کسی عرض (یعنی عمل اور حالت) کو ایجاد تو اللہ ہی کی قدرت و اختیار سے وابستہ ہے جب اللہ کی قدرت و اختیار کسی مخلوق سے وابستہ ہوجاتا ہے تو ہم اس کو تخلیق کہتے ہیں اور اختیار عہد کو بھی اس میں دخیل بنا لیا جائے تو یہ کسب عہد کہلاتا ہے ‘ لیکن کسب عبد موجد نہیں۔ موجد تو وہ قدرت و ارادہ ہے جس نے کسب عبد کو بعض چیزوں میں دخیل بنایا ہے بندہ کی طرف لفظ خلق کی نسبت سے یہ سمجھ لینا کہ بندہ اپنے افعال کا خود موجد ہے غلط ہے۔ ہاں بندے کو کا سب اور بنانے والا کہہ سکتے ہیں اسی لئے مجاہد نے کہا تھا کہ بندے بھی بناتے ہیں اور اللہ بھی بناتا ہے اور اللہ سب صناعوں سے بہتر بنانے والا ہے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ الخالقین کا معنی ہے صورتیں بنانے والے یا اندازہ کرنے والے۔ لغت میں خلق کا معنی ہے اندازہ کرنا۔ بعض اہل تفسیر نے کہا کہ کلام کی بنا فرض محال پر ہے اور فرض محال ناممکن نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر فرض کرلیا جائے کہ دوسرے بھی خالق ہیں تب بھی اللہ سب سے اچھا خالق ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عمر ؓ : کا قول نقل کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا چار باتوں میں (اتفاقاً ) میری موافقت اپنے رب سے ہوگئی۔ ایک یہ کہ جب وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلٰۃٍ ۔۔ نازل ہوئی تو اس کے آخر میں میری زبان سے نکل گیا فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ ۔ چناچہ آخر میں یہی الفاظ نازل ہوگئی۔ (الحدیث) حضرت عمر ؓ کے اس بیان سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک آیت سے کم قرآنی عبارت معجزہ نہیں ہے نازل ہونے سے پہلے دوسرے انسانوں کی زبان سے بھی اتنی عبارت نکل سکتی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رسول اللہ ﷺ : کا کاتب تھا (وحی نازل ہوتی تو آپ اس سے وحی کی کتابت بھی کرا لیا کرتے تھے) ایک بار رسول اللہ ﷺ کے لکھوائے بغیر یہ جملہ اس نے آیت مذکورہ کے اختتام پر زبان سے کہہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسی طرح لکھ دے یہ یوں ہی نازل ہوا ہے عبداللہ نے (لوگوں سے) کہا اگر محمد نبی ہیں ان کے پاس وحی آتی ہے تو میں بھی نبی ہوں میرے پاس بھی وحی آتی ہے یہ کہہ کر اسلام سے پھر گیا اور مکہ چلا گیا کچھ مدت کے بعد جب مکہ فتح ہوا تو جہاں اور چند لوگوں کو حضور ﷺ نے واجب القتل قرار دیا وہاں اس کو بھی مباح الدم قرار دے دیا اور حکم دے دیا کہ جہاں ملے قتل کردیا جائے۔ عبداللہ حضرت عثمان بن عفان ؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر سفارش کا خواستگار ہوا حضرت عثمان ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لئے امان کی درخواست کی۔ حضور ﷺ دیر تک خاموش رہے ‘ پھر دیر کے بعد فرمایا اچھا۔ (عبداللہ کو امان مل گئی) حضرت عثمان ؓ واپس چلے گئے تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا (تم نے میرے اچھا کہنے سے پہلے ہی اس کو قتل کیوں نہیں کردیا) میں تو دیر تک اسی لئے خاموش رہا تھا کہ تم اس کو قتل کر دو ۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ حضور ﷺ نے ہم کو اشارہ کیوں نہ کردیا۔ فرمایا نبی کے لئے یہ زیبا نہیں کہ نگاہ کی چوری کرے۔ عبداللہ اسی روز دوبارہ مسلمان ہوگیا اور پھر اس کا اسلام اچھا رہا۔ میں کہتا ہوں سبیل الرشاد میں عبداللہ کا مرتد ہونا اور فتح مکہ کے وقت رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے مباح الدم ہونا اور حضرت عثمان کا سفارش کرنا یہ سب کچھ مذکور ہے لیکن وجہ ارتداد یہ ذکر نہیں کی کہ اس کی زبان سے نزول وحی سے پہلے ہی جملۂ مذکورہ نکل گیا تھا اور تاریخی حیثیت سے ایسا ہونا ممکن بھی نہیں کیونکہ عبداللہ مذکور کے ارتداد کا واقعہ مدینہ میں ہوا تھا اور یہ سورت مکی ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوچکی تھی۔
Top