Mualim-ul-Irfan - Al-Muminoon : 78
وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
وَهُوَ : اور وہ الَّذِيْٓ : وہی جس نے اَنْشَاَ لَكُمُ : بنائے تمہارے لیے السَّمْعَ : کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل (جمع) قَلِيْلًا : بہت ہی کم مَّا تَشْكُرُوْنَ : جو تم شکر کرتے ہو
اور اللہ کی ذات وہ ہے جس نے بنائے ہیں تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل ۔ بہت کم تم شکر ادا کرتے ہو
ربط آیات : اللہ نے نافرمانی کرنے والے لوگوں کا حال بیان کیا اور ان کی سرکشی کا ذکر کیا۔ انہوں نے اللہ کے عطا کردہ انعامات کی ناقدری کی۔ ان کو اللہ کی طرف سے مہلت ملتی رہی مگر وہ کفر وشرک پر ہی اصرار کرتے رہے۔ اللہ نے ان کو تنبیہ بھی کی ، مگر وہ برائیوں سے باز نہ آئے ، پھر اللہ نے ان پر عذاب کا ایک مستقل دروازہ کھول دیا۔ یعنی مسلمانوں کو کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دے دیا۔ ابتداء میں تو کفر واسلام کا بڑا مقابلہ ہوا لیکن آہستہ آہستہ کفار مغلوب ہوتے چلے گئے اور پھر آخر یہ بڑے بڑے سرداران کفر مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا ، اس طرح کفار مایوس ہو کر بیٹھ گئے۔ توحید اور معاد کا ذکر : اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے توحید اور معاد کا اکٹھا ذکر کیا ہے۔ اللہ نے ایسے شواہد بیان فرمائے ہیں جن میں ایک طرف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل پائی جاتی ہے تو دوسری طرف وقوع قیامت کا ثبوت ملتا ہے۔ توحید کے عقلی اور نقلی دلائل گذشتہ دروس میں بھی بیان ہوچکے ہیں۔ اب یہاں بھی اللہ نے بعض اندرونی اور بیرونی مشاہدات کے ذریعے اپنی توحید پر دلیل قائم کی ہے۔ وقوع قیامت سے متعلق کفار ومشرکین کا انکار تیسرے رکوع میں بھی گزر چکا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ ہماری موت وحیات تو اسی دنیا تک محدود ہے ، اسی میں ہم مرتے اور جیتے ہیں۔ اور اس کے بعد کچھ نہیں۔ آج کے درس میں بھی کفار کا اسی قسم کا عندیہ ظاہر کیا گیا ہے جس میں انہوں نے بعث بعد الموت کا انکار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے نظریہ کا رد فرمایا ہے۔ کان اور آنکھ کی نعمت : اندرونی دلائل قدرت میں سے اللہ نے انسان کے بعض حواس ظاہرہ کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وھوالذی اللہ تعالیٰ کی رحیم وکریم اور قدرت تامہ کی مالک وہ ذات ہے انشالکم السمع والابصار جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں بنائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کا کان معلومات حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اگر کسی کے کان سلب ہوجائیں تو انسان کو بیشتر معلومات حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اگرچہ مشاہدہ کے ذریعے بھی کچھ نہ کچھ معلومات حاصل ہوجاتی ہیں مگر علم کا اصل ذریعہ قوت سماعت ہی ہے۔ کانوں کے ذریعے ہی وعظ ونصیحت کی باتیں سنی جاتی ہیں جن پر عمل کیا جاتا ہے اور برائی کی باتیں گانے بجانے بھی انہی کانوں کے ذریعے سنتے ہیں ……جن سے بچنے کا حکم ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کانوں اور آنکھوں کا ذکر بہت سی جگہوں پر کرکے ان کی افادیت کو ظاہر کیا ہے اور ان قویٰ کو دلائل قدرت کے طور پر بیان کیا ہے۔ امام رازی (رح) اور بعض دیگر حضرات نے اس بات میں بحث کی ہے کہ انسان کے لئے کانوں کی اہمیت زیادہ ہے یا آنکھوں کی۔ اگر قوت سماعت موجود ہے ، تو آنکھوں کے بغیر بھی انسان بہت کچھ معلومات حاصل کرسکتا ہے اور اچھائی اور برائی میں تمیز کرسکتا ہے۔ اور اگر قوت سماعت ختم ہوجائے تو انسان کی زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ آنکھیں بھی اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں جن کے ذریعے مختلف شکلوں اور رنگوں میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ آنکھوں کے بغیر پورا جہان گھپ اندھیر ہے۔ اسی لئے اللہ نے جہاں اپنی دیگر نعمتوں کا ذکر کیا ہے ، وہاں آنکھوں کی نعمت کا احسان بھی جتلایا ہے۔ الم ………عینین (البلد 8) کیا ہم نے انسان کو دو آنکھیں نہیں دیں جن کے ذریعے اچھائی اور برائی میں امتیاز کرتے ، ان کے ذریعے اللہ کی کتاب اور دیگر دینی کتب کا مطالعہ کرتے جن سے فکر پاک ہوتی اور اعمال میں اخلاص پیدا ہوتا ۔ اگر پھر بھی کوئی کمی رہ جاتی تو ولسانا وشفتین (البلد 9) تو ہم نے زبان اور دو ہونٹ بھی دیے ہیں۔ ان کو بروئے کار لاکر کسی اہل علم سے دریافت کیا جاسکتا تھا ، مگر اکثر لوگ نہ تو آنکھوں سے صحیح کام لیتے ہیں اور نہ نیک مقصد کے لئے زبان کو بروئے کار لاتے ہیں۔ زبان سے جھوٹ بولنا اور گالیاں دینا تو اس کا غلط مصرف ہے اور خدا تعالیٰ کی اس نعمت کی ناشکری کے مترادف ہے۔ آنکھوں کے متعلقحضور ﷺ کی حدیث (ترمذی ص 346 (فیاض) ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے من اذا اخذت کریمتیہ اگر بس کسی شخص کو دو عزت والی چیزیں یعنی آنکھیں سلب ۔۔۔ اور وہ اس پر صبر کرے تو میں اسے جنت میں پہنچائے بغیر کسی چیز پر راضی نہ ہوں گا۔ بہرحال کان اور آنکھ اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں جن کا جائز مصرف میں استعمال اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کے مترادف ہے۔ دل مرکز اخلاق ہے ، فرمایا ، اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جس نے کان آنکھیں ولافئدۃ اور دل عطا ، کیے۔ عربی زبان میں فئواد دل کو کہتے ہیں ، اور یہ وہی چیز ہے ۔ جس کو امام بیضاوی (رح) عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ امام شافعی (رح) ادراک کا مادہ دل میں مانتے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ادراک کا مادہ دماغ میں ہے مگر یہ دونوں اعضاء آپس میں مربوط ہیں جس طرح دل کے بغیر دماغ کام نہیں کر کستا اسی طرح دماغ بھی دل کے بغیر بےسود ہے۔ یہ درست ہے کہ انسان کی سوچ اور سمجھ کا تعلق عقل سے ہے مگر قول عملیہ اللہ نے دل میں رکھی ہے۔ قلب کی منشا کے خلاف کوئی کام انجام نہیں دیاجاسکتا۔ اس کے علاوہ اللہ نے ہر اچھائی ، برائی ، عقیدے اور اخلاق کا مرکز قلب کو بنایا ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو ہر انسان کے سینے میں رکھی ہوئی ہے۔ یہ صرف گوشت کا لوتھڑا نہیں بلکہ مرکز اخلاق ہے۔ خدا کی واحدانیت کا تصور بھی قلب میں ہے اور کفر ، شرک ، نفاق اور بدعقیدگی کا مرکز بھی قلب ہی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جو دل ہے اگر یہ درست ہے تو سارا جسم صحیح ہے اور اگر یہ خراب ہے تو سارا جسم ہی خراب ہے۔ الغرض ! کان ، آنکھ اور دل کی نعمتوں کا ذکر دوسرے مقامات پر آتا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ان السمع…………………مسئولا (آیت 3- -) کان ، آنکھ اور دل ہر ایک کے متعلق قیامت کے دن باز پرس ہوگی کہ میں نے تمہیں یہ عظیم نعمتیں عطا کی تھیں ، تم نے ان کو کس طرح استعمال کیا ؟ انسان کی ناشکری : فرمایا ، میں نے تمہیں یہ بہت بڑی نعمتیں عطا کی تھیں مگر افسوس قلیلا ما تشکرون تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو ، شکر تو یہ تھا کہ ان قویٰ کے ذریعے اچھائی کی باتیں حاصل کرتے ، خدا کی وحدانیت کو اپنے دل میں جگہ دیتے اور برائی سے نفرت کرتے ، مگر تم نے ان نعمتوں کا صحیح استعمال نہیں کیا۔ تم نے کانوں کے ذریعے بیہودہ باتیں ، قصے کہانیاں اور گانے وغیرہ سنے ، تمہیں تو قرآن پاک سننا چاہیے تھا۔ اللہ کے نبی کے فرمان سننے چاہئیں تھے اور نیکی کی دوسری باتوں کو کانوں میں جگہ دینی چاہیے تھی ، مگر تم ن اس کے برخلاف صحیح چیز کو دیکھا نہیں بلکہ غلط نگاہ ڈالی ہے ، صحیح بات کو سننے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ قلب کے ساتھ نیکی کی بجائے برائی کا ارادہ کیا ، دل میں ایمان ، توحید اور نیکی کی جگہ دینے کی بجائے کفر ، شرک ، نفاق ، بدعت اور رسومات باطلہ کو جگہ دی ، تو پھر یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ناشکری نہیں تو اور کیا ہے ؟ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ تم بہت کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ شکرگزاری کا طریقہ : شکرگزاری کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ کی ہر نعمت کو اس کے صحیح مقام پر استعمال کیا جائے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ عمر بھر تو آنکھوں سے کوئی مفید کام نہیں لیا مگر مرتے وقت وصیت کردی کہ مرنے کے بعد میری آنکھیں کسی نابینا کو لگادی جائیں۔ ساری عمر کے اندھے سے حسن سلوک نہیں کیا تو بعد ازمرگ آنکھیں دینے سے تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ کرنے کا کام تو یہ تھا کہ اپنی زندگی میں نابینائوں کی بھلائی کے لئے جدوجہد کرتے مگر ایسا نہیں کیا۔ یہ کام تو ولید بن عبدالملک نے انجام دیا تھا اس نے ہر نابینا آدمی کو ایک خادم مہیا کیا تھا اور اس کی ضروریات بیت المال سے پوری ہوتی تھیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ بعض نابینا حضرات نے بھی بڑے بڑے کام انجام دیے ہیں ہمارے زمانے میں مصر کا وزیر طہ حسین پی ، ایچ ، ڈی مگر نابینا تھا اس نے بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں حضور ﷺ اور صحابہ کی سیرت پر کتابیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ابوالعلیٰ معریٰ بھی نابینا تھا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ آخر عمر میں نابینا ہوگئے تھے مگر اسی حالت میں قرآن وحدیث کی تعلیم دیتے تھے ، بعض دیگر نابینائوں نے بھی بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں جنہیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ بہرحال مرنے کے بعد کسی کو آنکھیں یا کوئی دوسرا عضو دے دینا کوئی خدمت نہیں۔ اصل کام یہ ہے کہ نابینائوں کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے انہیں تعلیم دی جائے۔ آج کل تو بریل سسٹم موجود ہے جس کے ذریعے نابینا بھی پڑھ لکھ جاتے ہیں۔ انہیں ہنر سکھایا جائے اور اس قابل بنایا جائے کہ وہ بھیک مانگنے کی بجائے اپنی روزی خود کماسکیں۔ غرضیکہ اللہ نے کان ، آنکھ اور دل جیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں۔ انسان کا فرض ہے کہ انہیں صحیح کام پر لگائے اور ان سے صحیح فائدہ اٹھائے۔ نشانات قدرت : ارشاد ہوتا ہے۔ وھوالذی ذراکم فی الارض اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے۔ والیہ تحشرون اور تم اسی کی طرف اکٹھے کئے جائو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے انسانی آبادی کو دنیا کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ہے۔ ہر خطے کی آب وہوا کا اثر اس کی آبادی پر بھی پڑتا ہے جس کا اثر رنگ ، صحت اور شکل و صورت میں واضح ہوتا ہے۔ گرم اور سرد علاقوں کی اپنی اپنی ضروریات اور اپنے اپنے وسائل ہوتے ہیں۔ اسی طرح میدانی اور پہاڑی خطوں کے لوگوں کے اپنے اپنے اطوار اور اپنے اپنے رسم و رواج اور اپنی اپنی ضروریات ہوتی ہیں۔ ہر خطے کے لوگوں کو اپنے اپنے علاقے اور وطن سے محبت ہوتی ہے اور پورے اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت کا ثمرہ ہے کہ ہر قوم اپنے اپنے مقام پر مطمئن ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ کوئی انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں زندگی گزارے ، مرنے کے بعد اسے بہرحال اللہ ہی کی طرف جانا ہے۔ وہ اپنی بارگاہ میں ہر رنگ ونسل اور ہر ملک وقوم کے لوگوں کو اکٹھا کرے گا۔ فرمایا وھو الذی یحییٰ ویمیت ، خدا تعالیٰ وہ ہے جو زندہ رکھتا ہے اور موت دیتا ہے۔ جب تک اسے منظور ہوتا ہے انسان سطح ارضی پر زندگی گزارتا ہے اور پھر جب اس کی منشاء ہوتی ہے تو اس زندگی کو واپس لے کر موت سے ہم کنار کردیتا ہے۔ گویا موت وحیات کا پورا نظام اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ یہ اختیار اس نے کسی دوسری ہستی کو تفویض نہیں کیا۔ یہ بھی اس کی قدرت کی ایک دلیل ہے۔ ولہ اختلاف الیل والنھار ، دن رات کا اختلاف یعنی نظام شمسی بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ایک مقررہ طریقے کے مطابق رات اور دن کو آگے پیچھے لاتا ہے۔ اس نے دن رات کے ذریعے دنوں کی گنتی کا حساب رکھا ہوا ہے۔ ایک دن رات چوبیس گھنٹے میں مکمل ہوتا ہے ، ہفتہ سات دن میں ، مہینہ تیس دن میں اور سال بارہ مہینوں میں ، اللہ نے ایسی تقویم مقر ر کررکھی ہے جس میں ایک سیکنڈ کا بھی فرق نہیں پڑتا اور تمام لوگ اسی رات اور دن کے حساب سے معمولات زندگی گزارتے ہیں۔ فرمایا یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل ہیں ۔ وہ اکیلی ذات ہے جو پوری کائنات کا نظام نہایت احسن طریقے سے چلارہی ہے اور جس میں کبھی کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔ ان تمام شواہد کے باوجود اگر کوئی خدا کی ذات پر ایمان نہیں لاتا تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہے۔ فرمایا سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر بھی افلا تعقلون کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ کیا تمہیں اتنا بھی شعور نہیں کہ ان دلائل قدرت پر غور وفکر کرسکو ؟۔ وقوع قیامت کا انکار : فرمایا ، ان تمام حقائق کی وضاحت کے بعد بھی ان لوگوں کی سمجھ میں بات نہیں آئی۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانے کی بجائے بل قالوا مثل ماقال الاولون انہوں نے بھی وہی بات کی جو پہلے لوگوں نے کی تھی ۔ پرانے زمانے کے کفار ومشرکین نے بھی دلائل قدرت دیکھنے کے باوجود توحید باری تعالیٰ اور قیامت کا انکار کیا تھا تو ان لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا قالواء اذا متنا وکنا ترابا وعظاما کہنے لگے کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی میں مل جائینگے اور ہماری ہڈیاں بھی بوسیدہ ہوجائیں گی۔ سورة النزعت میں ہےء اذا……………نخرۃ (آیت 11) کیا جب ہماری ہڈیاں گل سڑ کر بھربھری ہوجائیں گی۔ ء انا لمبعوثون تو کیا ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ یہ بات ہماری عقل میں نہیں آتی ، کہتے تھے لقد وعدنا نحن وابآئونا ھذا من قبل مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا وعدہ تو اس سے پہلے ہمارے آبائو اجداد سے بھی کیا گیا ، مگر ہم نے تو آج تک کسی کو مرکر دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا ، کہنے لگے کہ اس دعویٰ میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ ان ھذ الا اسا طیر اولین بلکہ یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جو ہم شروع سے سنتے آئے ہیں مگر ان کی عملی شکل کبھی نہیں دیکھی۔ کہتے تھے کہ وقوع قیامت ، بعث بعدالموت ، حشرنشر ، جنت دوزخ سب کہانیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ، لہٰذا ہم ان باتوں کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ نزول قرآن کے زمانے کے کافر اور بعد والے کافر سب ایسا ہی کہتے آئے ہیں۔ الغرض ! بنیادی بات یہ ہے کہ مذکورہ تمام مشاہدات اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت کی دلیل ہیں۔ جب وہ قادر مطلق اور وحدہ لاشریک ہے تو پھر وہ وقوع قیامت پر بھی قادر ہے اور یہ واقع ہو کر رہیگی۔ اس مضمون کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر مختلف عنوانات سے بیان فرمایا ہے۔
Top