Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 33
وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ
وَاِذْ : اور جب اَخَذَ : لیا اللّٰهُ : اللہ مِيْثَاقَ : عہد الَّذِيْنَ : وہ لوگ جنہیں اُوْتُوا الْكِتٰبَ : کتاب دی گئی لَتُبَيِّنُنَّهٗ : اسے ضرور بیان کردینا لِلنَّاسِ : لوگوں کے لیے وَ : اور لَاتَكْتُمُوْنَهٗ : نہ چھپانا اسے فَنَبَذُوْهُ : تو انہوں نے اسے پھینک دیا وَرَآءَ : پیچھے ظُهُوْرِھِمْ : اپنی پیٹھ (جمع) وَاشْتَرَوْا بِهٖ : حاصل کی اس کے بدلے ثَمَنًا : قیمت قَلِيْلًا : تھوڑی فَبِئْسَ مَا : تو کتنا برا ہے جو يَشْتَرُوْنَ : وہ خریدتے ہیں
اگر چاہے تو ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ جہاز سمندر کی سطح پر کھڑے کھڑے رہ جائیں بیشک اس میں نشانیاں ہر صابر شاکر کیلئے ہیں،39۔
39۔ یعنی اس کی قدرت وصناعت پر دلالت کرنے والی نشانیاں کہ وہی ہوا کو چلاتا ہے۔ اور ہوا جہاز کو حرکت میں لاتی ہے۔ (آیت) ” الریح “۔ ریح (ہوا) کا مفہوم بہت وسیع ہے دخانی جہازوں کی اسٹیم بھی ہوا ہی کی ایک شکل ہے۔ (آیت) ” صبار شکور “۔ بندہ کے لئے زندگی بھر دو ہی حالتیں ممکن ہیں۔ یا غم و حرمان کی اور یا مسرت و راحت کی۔ مومن پہلی صورت میں صبر و تسلیم سے کام لیتا رہتا ہے۔ اور دوسری صورت میں شکر گزاری سے اور یہ دونوں صورتیں حق تعالیٰ سے جڑے رہنے ہی کی ہیں۔ حق تعالیٰ سے غفلت کا مجرم وہ بہرحال کسی صورت میں بھی نہیں ہوتا۔ وان یکون اما فی البلاء واما فی الالاء فان کان فی البلاء کان من الصابرین وان کان فی النعماء کان من الشاکرین فانہ لایکون البتۃ من الغافلین (کبیر)
Top