Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 27
فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ
فَبِظُلْمٍ : سو ظلم کے سبب مِّنَ : سے الَّذِيْنَ هَادُوْا : جو یہودی ہوئے (یہودی) حَرَّمْنَا : ہم نے حرام کردیا عَلَيْهِمْ : ان پر طَيِّبٰتٍ : پاک چیزیں اُحِلَّتْ : حلال تھیں لَهُمْ : ان کے لیے وَبِصَدِّهِمْ : اور ان کے روکنے کی وجہ سے عَنْ : سے سَبِيْلِ اللّٰهِ : اللہ کا راستہ كَثِيْرًا : بہت
اور اللہ اگر اپنے بندوں کے لئے رزق فراخ کردیتا تو وہ روئے زمین پر سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ جتنا چاہتا ہے انداز (مناسب) سے اتارتا ہے وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ہے اور خوب دیکھنے والا ہے،33۔
33۔ یعنی اللہ سے بڑھ کر اپنے بندوں کی مصلحتوں، صلاحیتوں، استعدادوں کا جاننے والا اور ان کے احوال و اعمال پر نظر رکھنے والا اور کون ہوگا، وہ ہر بندہ کو اس کے ظرف، ضرورت ومصلحت کے لائق ہی روزی دیتا ہے۔ ورنہ اگر وہ بےتحاشا سب کو خوشحال ہی بنا دے تو انسان کے عام طبائع ایسے ہیں کہ بجائے امن وآشتی کے فتنہ و فساد برپا ہوجائے اور سب ایک دوسرے کے دشمن ہو کر کفر ونافرمانی میں مبتلا ہوجائیں۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسی طرح بسط باطنی بھی بعض طالب حق کے حق میں مضر ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے نہ ہونے سے مغموم نہ ہونا چاہیے۔
Top