Tafseer-e-Majidi - Ash-Shura : 26
وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَيَسْتَجِيْبُ : اور جواب دیتا ہے الَّذِيْنَ : ان لوگوں کو اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے وَيَزِيْدُهُمْ : اور زیادہ دیتا ہے ان کو مِّنْ فَضْلِهٖ : اپنے فضل سے وَالْكٰفِرُوْنَ : اور کافر لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ شَدِيْدٌ : عذاب شدید
اور ان لوگوں کی عبادت قبول کرتا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور ان کو اپنے فضل سے اور بڑھاتا رہتا ہے،32۔ اور کافروں کے لئے تو سخت عذاب (مقرر)
32۔ یعنی جو عمل نیک ہیں وہ مقبول تو ہوتے ہی ہیں اور ان پر اجر ان کے استحقاق اصلی سے اور زیادہ ملتا رہتا ہے۔ (آیت) ” یقبل .... السیات “۔ چناچہ کوئی کافر اگر کفر سے توبہ کرلے تو اس کی وہ توبہ بھی قبول ہوجائے گی اور جو گناہ اس نے حالت کفر میں کئے ہیں وہ بھی سب معاف ہوجائیں گے۔ (آیت) ” ویعلم ماتفعلون “۔ اور اسی علم کل کا ایک مظہر یہ ہے کہ توبہ کا اخلاص وعدم اخلاص بھی اس سے مخفی نہیں رہتا۔ (آیت) ” ویعفوا عن السیات “۔ یہ گناہ کہیں تو توبہ کے واسطہ سے معاف ہوتے ہیں اور کہیں بلاواسطہ توبہ یوں ہی معاف ہوجاتے ہیں۔ تارۃ یعفوا بواسطۃ قبول التوبۃ وتارۃ یعفوا ابتداء من غیر توبۃ (کبیر)
Top