تفسیر القرطبی
Al-Qurtubi · 64. At-Taghaabun · Ayah 6
ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِیْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ یَّهْدُوْنَنَا١٘ فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ﴿6﴾
- ذٰلِكَ بِاَنَّهٗیہ بوجہ اس کے کہ بیشک وہ
- كَانَتْتھے
- تَّاْتِيْهِمْآتے ان کے پاس
- رُسُلُهُمْان کے رسول
- بِالْبَيِّنٰتِساتھ واضح آیات کے
- فَقَالُوْٓاتو وہ کہتے
- اَبَشَرٌکیا انسان
- يَّهْدُوْنَنَاہدایت دیں گے کہ ہم کو
- فَكَفَرُوْاتو انہوں نے کفر کیا
- وَاور
- تَوَلَّوْامنہ موڑ گئے
- وَّاسْتَغْنَى اللّٰهُاور بےپرواہ ہوگیا اللہ
- وَاللّٰهُ غَنِيٌّاور اللہ بےنیاز ہے
- حَمِيْدٌتعریف والا ہے
Translation · Al-Qurtubi
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لیکر آتے تو یہ کہتے کہ کیا آدمی ہمارے ہادی بنتے ؟ تو انہوں نے (انکو) نہ مانا اور منہ پھیرلیا اور خدا نے بھی بےپروائی کی اور خدا بےپروا (اور) سزا وار حمد (وثنا) ہے۔
Tafseer · Al-Qurtubi
انہیں یہ عذاب اس وجہ سے آیا کہ انہوں نے ان رسولوں کا انکار کیا جو ان کے پاس واضح دلیل لائے انہوں نے انکار کردیا کہ رسول بشر بھی ہو سکتا ہے بشر مبتداء ہونے کی حیثیت میں مرفوع ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، فعل مضمر ہے اور اس میں جمع کا معنی ہے اسی وجہ سے یھدوننا ارشاد فرمایا۔ یھدینا نہیں فرمایا۔ بعض اوقات واحد جمع کے معنی میں ہوتا ہے تو وہ اسم جنس ہوتا ہے اس کا واحد انسان ہے لفظوں میں اس کا کوئی واحد نہیں۔ بعض اوقات جمع واحد کے معنی میں آتا ہے جس طرح فرمایا : ماھذا بشراً (یوسف : 31) انہوں نے اس قول ابشر یھدوننا کے ساتھ انکار کیا۔ انہوں نے یہ قول ان کے چھوٹے پن کو ظاہر کرنے کے لئے کیا تھا۔ انہیں علم نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ہدایت عطا فرماتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : انہوں نے رسولوں کا انکار کیا ہر طرف سے روگردانی کی اور ایمان و موعظت سے اعراض برتا۔
اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت کی وجہ سے بندوں کی طاعت سے مستغنی ہے اسے بندوں کی طاعت کی کوئی ضرورت نہیں۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جو برہان ظاہر کی ہے اور جس امر کو واضح کیا ہے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان سے اس امر کے بارے میں بےنیاز ہوگیا ہے کہ ان پر مزید کوئی کرم نوازی فرمائے جو انہیں ہدایت کی طرف دعوت دے اور ہدایت کی طرف لے جائے۔ (1)