Al-Qurtubi - Al-Insaan : 22
اِنَّ هٰذَا كَانَ لَكُمْ جَزَآءً وَّ كَانَ سَعْیُكُمْ مَّشْكُوْرًا۠   ۧ
اِنَّ : بیشک هٰذَا : یہ كَانَ : ہے لَكُمْ : تمہاری جَزَآءً : جزا وَّكَانَ : اور ہوئی سَعْيُكُمْ : تمہاری سعی مَّشْكُوْرًا : مشکور (مقبول)
یہ تمہارا صلہ ہے اور تمہاری کوشش (خدا کے ہاں) مقبول ہوئی
ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا۔ انہیں یہ بات کہی جائے گی یہ تمہارا بدلہ ہے تمہارا عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہے اللہ تعالیٰ کا بندے کے لیے شکر کا معنی ہے وہ اس کی اطاعت کو قبول کرتا ہے اس پر اس کی ثنا کرتا ہے اور اس پر عمل پر اسے بدلہ عطا فرماتا ہے، سعید نے قتادہ سے روایت نقل کی ہے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے ان کو اچھی جزاء دیتا ہے مجاہد نے کہا، مشکورا، کا معنی مقبول ہے اور معنی قریب قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ جب عمل قبول فرماتا ہے تو اس پر شکر کرتا ہے جب شکر کرتا ہے تو اس پر بڑا ثواب دیتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فضل عظیم والا ہے۔ حضر تابن عمر سے مروی ہے ایک حبشی نے عرض کی یارسول اللہ تم لوگوں کو ہم پر شکل و صورت رنگت اور نبوت میں فضیلت دی گئی ہے بتائیے اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لاؤں جس پر آپ ایمان لائے ہیں اور میں ویسا ہی عمل کروں جو آپ عمل کرتے ہیں کیا میں آپ کے ساتھ جنت میں داخل ہوسکوں گا، فرمایا ہاں مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، بیشک حبشی کی سفیدی اور اس کی روشنی جنت میں ایک ہزار سال کی مسافت سے دکھائی دے گی، پھر نبی کریم نے فرمایا، جس نے لا الہ الا اللہ کہا اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں وعدہ ہے جس نے سبحان اللہ اور الحمدللہ کہا، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک لاکھ چالیس ہزار نیکیاں ہوں گی، اس آدمی نے عرض کی یارسول اللہ اس کے بعد ہم کیسے ہلاک ہوں گے ؟ فرمایا، قیامت کے روز ایک آدمی کو لایاجائے گا اگر وہ اس عمل کو پہاڑ پر رکھے تو پہاڑ کو بوجھل کردے پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت آئے گی قریب ہے کہ وہ ان سب اعمال کو ختم کردے مگر یہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ ان پر مہربانی کرے فرمایا، پھر یہ آیت نازل ہوئی، ھل اتی علی الانسان، ملکاکبیرا۔ حبشی نے عرض کی، یارسول اللہ کیا میری آنکھیں وہ کچھ دیکھیں گی جو جنت میں آپ کی آنکھیں دیکھتی ہیں ؟ نبی کریم نے ارشاد فرمایا ہاں، وہ حبشی رویا یہاں تک کہ اس کی روح پرواز کرگئی۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا، میں نے رسول اللہ کو دیکھا آپ اسے قبر میں اتار رہے تھے اور زبان سے یہ پڑھ رہے تھے، ان ھذا کان لکم جزاء وکان سعیکم مشکورا۔ ہم نے عرض کی، یارسول اللہ وہ کیا ہے ؟ فرمایا، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ نے اسے کھڑا کیا پھر فرمایا، اے میرے بندے میں تیرے چہرے کو سفید کروں گا اور جنت میں تجھے وہاں ٹھکانہ دوں گا جہاں تو چاہے گا تو عمل کرنے والوں کو اتنا اچھا اجر ہے۔
Top