Ruh-ul-Quran - Al-Muminoon : 60
وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ يُؤْتُوْنَ : دیتے ہیں مَآ اٰتَوْا : جو وہ دیتے ہیں وَّقُلُوْبُهُمْ : اور ان کے دل وَجِلَةٌ : ڈرتے ہیں اَنَّهُمْ : کہ وہ اِلٰى : طرف رَبِّهِمْ : اپنا رب رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے
اور وہ لوگ جو دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں اس خیال سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں
وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَآ اٰتَوْا وَّقُلُوْبُھُمْ وَجِلَۃٌ اَنَّھُمْ اِلٰی رَبِّھِمْ رٰجِعُوْنَ ۔ (المومنون : 60) (اور وہ لوگ جو دیتے ہیں تو جو کچھ دیتے ہیں اس طرح دیتے ہیں کہ ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں اس خیال سے کہ وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ ) چوتھی صفت وہ جو کچھ بھی اللہ کے راستے میں دیتے ہیں نمائش اور فخر کے لیے نہیں دیتے۔ وہ اللہ کے حکم کی تعمیل اور اسی کی رضا کے حصول میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ اپنے مال و دولت کا بیشتر حصہ بھی اللہ کی راہ میں لٹادیں تب بھی ان کے دل اس تصور سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن اللہ کے حضور حاضری ہونے والی ہے وہاں ہمارے اس انفاق میں اگر کہیں اظہارِ فخر یا نمائش وریاکا ادنیٰ ساجذبہ بھی نکل آیا تو ہم اللہ کو کیا جواب دے سکیں گے۔ وہ صرف دولت خرچ کرنے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اس کے محرک کی پاکیزگی اور قلب و دماغ کے اخلاص پر سب سے زیادہ توجہ دینا ضروری سمجھتے ہیں، وہ خوب جانتے ہیں کہ بڑے سے بڑا ایثار اور انفاق ضروری نہیں کہ نمائش اور فخر کی ہر آلودگی سے مبرا رہا ہو کیونکہ ؎ براہیمی نظر پیدا بڑی مشکل سے ہوتی ہے ہوس سینے میں چھپ چھپ کر بنا لیتی ہے تصویریں
Top