Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 60
وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ يُؤْتُوْنَ : دیتے ہیں مَآ اٰتَوْا : جو وہ دیتے ہیں وَّقُلُوْبُهُمْ : اور ان کے دل وَجِلَةٌ : ڈرتے ہیں اَنَّهُمْ : کہ وہ اِلٰى : طرف رَبِّهِمْ : اپنا رب رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے
اور جن کا حال یہ ہے کہ جب وہ دیتے ہیں اللہ کی راہ میں جو کچھ کہ ان کو دینا ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر رہے ہوتے ہیں، اس عقیدہ و احساس کی بناء پر کہ ان کو بہرحال اپنے رب کے پاس ہی لوٹ کر جانا ہے،
77 اللہ والوں کی شان انفاق کا خاص اور امتیازی پہلو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں " خواہ ان کا وہ خرچ و انفاق فرض زکوٰۃ ہو یا کوئی نفلی صدقہ و خیرات کہ کلمہ { ٔما } کا عموم ان سب کو شامل ہے۔ سو وہ اللہ کی راہ میں دیتے ہوئے بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کا یہ دیا اللہ کی راہ میں قبول ہوگا یا نہیں۔ اور یہ اس کی شان اور اس کی رضا کے لائق ہے کہ نہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے حضور ﷺ سے اس آیت کریمہ کے مصداق کے بارے میں پوچھا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے ایسے لوگوں کی نشاندہی فرمائی۔ جیسا کہ اگلے حاشیے میں آرہا ہے۔ سو مومن صادق کی یہ خاص امتیازی شان ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی کرتے ہوئے بھی اس سے لرزاں وترساں رہتا ہے کہ کیا پتہ کہ یہ اس خالق ومالک کے یہاں شرف قبولیت سے مشرف و سرفراز ہو سکے گی یا نہیں۔ اور یہ نتیجہ ہوتا ہے ان کی انابت و رجوع الی اللہ کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرضی وعلی ما یحب ویرضی جل وعلا - 78 انابت و رجوع الی اللہ صلاح و اصلاح کی اصل اساس و بنیاد : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ان کا خرچ و انفاق کسی دکھلاوے اور نمود و نمائش کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کو بہرحال اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ اور پتہ نہیں کہ وہاں کیا صورت پیش آئے گی۔ ہمارا دیا قبول ہوگا یا نہیں۔ حضرت حسن (رح) فرماتے ہیں کہ مومن نیکی کر کے بھی ڈرتا رہتا ہے اور منافق برائی کر کے بھی بےخوف رہتا ہے۔ اور مسند امام احمد (رح) اور سنن امام ترمذی (رح) وغیرہ میں ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آپ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے پوچھا کہ اس آیت کریمہ میں کن لوگوں کا ذکر ہے فرمایا گیا ہے ؟ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ کیا اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو زنا اور چوری وغیرہ جیسے جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا " نہیں اے صدیق کی بیٹی، بلکہ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو نماز روزہ کرتے اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں مگر پھر بھی وہ ڈرتے رہتے ہیں کہ پتہ نہیں ہمارے یہ اعمال قبول ہوں گے یا نہیں " ۔ لَا یا ابنۃ الصّدیق وَلٰکِنْ ھو الرّجُلُ الّذِیْ یُصَلِّیْ ویَصُوْمُ وَیَتَصَدَّقُ وَیَخَافُ اَلَّا یُقْبَلَ مِنْہُ " ۔ (ابن کثیر، ابن جریر، محاسن، صفوۃ اور مراغی وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو سچے پکے اور صدق و خلوص والے ایمان و یقین کا اثر و نتیجہ یہی ہوتا ہے۔
Top