Ruh-ul-Quran - Hud : 92
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ
لَوْ اَنْزَلْنَا : اگر ہم نازل کرتے هٰذَا الْقُرْاٰنَ : یہ قرآن عَلٰي جَبَلٍ : پہاڑ پر لَّرَاَيْتَهٗ : تو تم دیکھتے اس کو خَاشِعًا : دبا ہوا مُّتَصَدِّعًا : ٹکڑے ٹکڑے ہوا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے خوف سے وَتِلْكَ : اور یہ الْاَمْثَالُ : مثالیں نَضْرِبُهَا : ہم وہ بیان کرتے ہیں لِلنَّاسِ : لوگوں کیلئے لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ يَتَفَكَّرُوْنَ : غور وفکر کریں
اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے پست اور پاش پاش ہوجاتا، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں
لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَتِلْـکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَـکَّرُوْنَ ۔ (الحشر : 21) (اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے پست اور پاش پاش ہوجاتا، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔ ) منافقین کو زجر و تنبیہ اس آیت کریمہ میں منافقین کے لیے زجروملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمامِ حجت کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آنحضرت ﷺ جیسا رسول بھیجا اور قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی۔ جس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام کی عظمت وہی ہوتی ہے جو متکلم کی ہوتی ہے۔ جب اس احساس اور علم کے ساتھ اسے کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو پہاڑ جیسی سخت اور بےحس چیز بھی خشیت الٰہی سے سرفگندہ اور پاش پاش ہوجاتی۔ کیونکہ مخلوقات کی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی بھی کلام کو اس کے متکلم کے حوالے سے محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں۔ ایک معمولی آدمی جب کوئی سی بات بھی کرتا ہے تو اس کے معمولی ہونے کی وجہ سے کوئی اسے قدروقیمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ لیکن وہی بات اگر کسی صاحب جبروت اور صاحب منصب کی زبان سے نکلے تو سننے والے اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اور طبیعتیں اس کے لیے نہ صرف ہموار ہوتیں بلکہ دبی چلی جاتی ہیں۔ بےجان مخلوقات کو بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس بخشا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے۔ اس احساس کے تحت اگر قرآن کریم کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا اور اسے احساس ہوتا کہ یہ خداوندِذوالجلال کا کلام ہے جس نے مجھے بلندی اور سختی عطا کی ہے، لیکن اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ایک آن میں مجھے اٹھا کر پھینک دے۔ تو متکلم کی حیثیت کے ادراک کی وجہ سے پہاڑ پست ہوجاتا اور پھٹ جاتا، دبتا چلا جاتا اور پاش پاش ہوجاتا۔ لیکن انسانوں کو اپنی غفلت و جحود کی وجہ سے چونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا استحضار نہیں ہوتا اس لیے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب بھی ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو وہ اس سے متأثر نہیں ہوتے۔ آخر میں فرمایا کہ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے حال پر غور کریں کہ اگر ان کے دل قرآن جیسی عظیم کتاب کو سن کر بھی پگھلتے نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں قدرت نے ایسی قساوت پیدا کردی ہے جس پر کوئی بڑی سے بڑی حقیقت بھی اثرانداز نہیں ہوتی۔ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ایسے دلوں پر مہر نہ کردے جس طرح اس نے یہود کے دلوں پر کی ہے۔
Top