Anwar-ul-Bayan - Al-Hashr : 21
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ
لَوْ اَنْزَلْنَا : اگر ہم نازل کرتے هٰذَا الْقُرْاٰنَ : یہ قرآن عَلٰي جَبَلٍ : پہاڑ پر لَّرَاَيْتَهٗ : تو تم دیکھتے اس کو خَاشِعًا : دبا ہوا مُّتَصَدِّعًا : ٹکڑے ٹکڑے ہوا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے خوف سے وَتِلْكَ : اور یہ الْاَمْثَالُ : مثالیں نَضْرِبُهَا : ہم وہ بیان کرتے ہیں لِلنَّاسِ : لوگوں کیلئے لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ يَتَفَكَّرُوْنَ : غور وفکر کریں
اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم دیکھتے کہ خدا کے خوف سے دبا اور پھٹا جاتا ہے اور یہ باتیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر کریں
(59:21) لو۔ حرف شرط۔ اگر لرایتہ۔ لام جواب شرط کے لئے۔ رایت ماضی واحد مذکر حاضر ، ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع جبل ہے۔ خاشعا : دب جانے والا۔ عاجزی کرنے والا۔ فروتنی کرنے والا۔ خشوع (باب فتح) مصدر سے۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ متصدعا : اسم فاعل واحد مذکر منصوب ۔ تصدع (تفعل) مصدر۔ بمعنی ٹکڑے ٹکڑے۔ شگافتہ۔ صدع کا لفظ پجٹے ، کھلنے۔ شگافتہ ہونے اور الگ ہوجانے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔ اس لئے صدع شگاف کو اور آدمیوں کی ایک ٹکڑی اور گروہ کو کہتے ہیں زمین کو پھاڑ کر سبزہ نلتا ہے اس لئے سبزہ کو صدع کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ والارض ذات الصدع (86:12) قسم ہے سبزہ والی زمین کی۔ یا قسم ہے زمین کی جو پھٹ جاتی ہے (کہ اس میں سے پھوٹ آتے ہیں درخت اور کھیتی۔ خاشعا متصدعا ہر دو حال ہیں :۔ یعنی تو دیکھتا ہے کہ وہ خدا کے خوف سے دبا جا رہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ من خشیۃ اللہ : من حرف جار۔ خشیۃ اللہ مضاف مضاف الیہ۔ خشیۃ کوڈر۔ ہیبت۔ خشیۃ اس خوف کو کہتے ہیں جس میں تعظیم بھی شامل ہو۔ یہ بات اکثر حالات میں جس کا ڈر ہو اس کے علم سے ہوتی ہے۔ اسی بناء پر آیت شریفہ انما یخشی اللہ من عبادہ العلموا (35:28) اللہ سے ڈرتے وہی ہیں اس کے بندوں میں جو عالم ہیں ۔ میں علماء کی خشیت سے مخصوص کیا گیا ہے۔ تلک الامثال : تلک اسم اشارہ واحد مؤنث الامثال مشار الیہ، بمعنی مثالیں۔ نضربھا مضارع جمع متکلم۔ ضرب مصدر سے ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الامثال ہے۔ ہم بیان کرتے ہیں ان کو۔ ضرب کے اصل معنی ہیں مارنا۔ ہاتھ سے ہو یا پاؤں سے ہو یا کسی آلہ سے ۔ ضرب الدراہم پھٹہ لگانا۔ ضرب فی الارض : زمین پر چلنا۔ ضرب الخیمۃ خیمہ لگانا۔ ضرب الذلۃ والمئکۃ ذلت اور فقیری کو خیمہ کی طرح محیط اور مسلط کردینا۔ ضرب المثل ماضوذ ہے ضرب الدراہم سے یعنی کسی چیز کو اس طرح بیان کرنا کہ دوسرے پر اس کا اثر پڑ سکے۔ لعلہم : لعل حرف مشبہ بالفعل ہم ضمیر جمع مذکر غائب اس کا اسم ۔ شاید وہ سب لوگ۔ تتفکرون ۔ مضارع جمع مذکر غائب تفکر (تفعل) مصدر ۔ بمعنی غور کرنا۔ لعل کی خبر۔ شاید کہ وہ غور کریں۔ امید ہے کہ وہ گور کریں گے۔ تاکہ وہ غور کریں۔ آیت ہذا کی تشریح میں صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں :۔ لو انزلنا ھذا القران ۔۔ الخ۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک آیت میں ایک تمثیل ہے یعنی اللہ اگر پہاڑ میں قوت تمیز پیدا کردیتا اور پھر اس وقت اس پر قرآن اتارتا۔ تو پہاڑ عاجزی سے دب جاتا۔ اور خوف سے پھٹ جاتا اور عظمت قرآن سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا وان منھا لما یہبط من خشیۃ اللہ (2:74) باوجود یکہ پہاڑ نہایت سخت اور ٹھوس یا وزن ہیں۔ لیکن ان کو خوف ہوتا کہ وہ تعظیم قرآن پوری طرح جیسا کہ حق ہے ادا نہ کر پائے اس وجہ سے پارہ پارہ ہوجاتے لیکن کافر انسان جو صاحب علم و عرفان ہے قرآن کے اندر جو نصیحتیں اور عبرتیں ہیں ان کو جانتا پہچانتا ہے پھر بھی سنی ان سنی کردیتا ہے۔ (بالکل اثر نہیں ہوتا) ۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جمادات اور نباتات بظاہر بےشعور اور عدیم الحس ہیں لیکن وہ اپنے کالق کا شعوررکھتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے دریافت کرتا ہے کہ :۔ کیا تیرے اوپر کوئی بندہ خدا اللہ کو یاد کرتا ہوا گزرا ؟ نوٹ از مترجم تفسیر مظہری :۔ صحیح تحقیق یہ ہے کہ ودمائے یونان جو جمادات و نباتات کو بےحس اور بےشعور کہتے ہیں وہ غلط ہے موجودہ سائش نے نباتات میں تو شعور شابت کردیا اور عنقریب جمادات کا حساس ہونا بھی ظاہر ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا ہے کہ وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم (17:44) یہ تسبیح مقالی ہے حالی نہیں ہے یہ مراد نہیں کہ ہر شے تخلیقا اپنے خالق کے بےعیب ہونے پر دلالت کر رہی ہے ہر مصنوع اپنے صانع پر دال ہے یہ مطلب صراحت آیت کے خلاف ہے ۔ کیونکہ آیت کا آخری جزے بتارہا ہے کہ انسان تسبیح اشیاء کو نہیں سمجھتا۔ اب اگر تسبیح سے تسبیح حال مراد لی جائے اور اس کا یہ مطلب مراد لیا جائے کہ ہر مخلوق اپنے کالق و فاطر کے بےعیب ہونے پر فطرۃ دلالت کر رہی ہے تو اس تسبیح اشیاء سے تو یونانی کافر بلکہ جاہل بےعلم بھی واقف تھے اور ہیں۔۔ پھر نفیء تفقہ کے کچھ معنی ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ تسبیح مقالی ہی مراد ہے مگر ہر ثیز کی نوعی زبان جدا جدا ہے جس کو ہر نوع کے افراد ہی سمجھتے ہیں۔ پہاڑ پہاڑ کی بولی سمجھتا ہے اور پانی پانی کی بات سمجھتا ہے اور انسان ان کی بولی نہیں سمجھتے۔ معجزہ نبوت اس سے مستثنیٰ ہے۔ عام انسان اسی بولی کو سمجھتے ہیں جو مخارج حروف اور اوتاد الصوت کی مرہون ہے اور اسی کو کلام اور مقال کہتے ہیں۔ پس رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد فرمانا بالکل صحیح ہے کہ ایک پہاڑ دوسرے پہاڑ سے کہتا ہے کہ ۔۔ وغیرہ اور سچ فرمایا اللہ نے :۔ یسبح لہ ما فی السموت والارض (59:24)
Top