Tafseer-e-Saadi - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے
(آیت نمبر (115) (افحسبتم) یعنی اے مخلوق !” کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے “ کہ (انما خلقنکم عبثا) ” بلاشبہ ہم نے تمہیں بےفائدہ اور باطل پیدا کیا ہے “ کہ تم کھاؤ ‘ پیو ‘ زمین پر اکڑ کر چلو اور دنیا کی لزتوں سے متمتع ہوتے رہو اور ہم تمہیں یوں نہیں چھوڑ دیں گے۔ ہم تمہیں کسی چیز کا حکم دیں گے نہ تمہیں منع کریں گے ‘ تمہیں ثواب عطا کریں گے نہ تمہیں عذاب دیں گے ؟ اس لیے فرمایا : (وانکم الینا لترجعون ) ” اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جاؤ گے ؟ “ یہ بات تمہارے دل ہی میں نہ آئے۔ (فتعلی اللہ) یعنی اس گمان باطل سے اللہ بہت بڑا اور بلند تر ہے جو اس کی حکمت میں قادح ہے۔ (الملک الحق لا الہ الا ھو رب العرش الکریم) ” وہ حقیقی بادشاہ ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش کریم کا رب ہے۔ “ اس کا تمام مخلوق کا مالک ہونا حق ہے وہ اپنے صدق ‘ اپنے وعدہ اور وعید میں حق ہے ‘ وہ محبوب اور معبود ہے کیونکہ وہ ہر کمال کا مالک ہے۔ (رب العرش الکریم ) ” وہ عرش کریم کا رب ہے۔ “ پھر اس سے کم تر مخلوق کا تو بدرجہ اولیٰ رب ہے۔ یہ چیز مانع ہے اس سے کہ وہ تمہیں عبث پیدا کرے۔
Top