Tafseer-e-Madani - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
پس بڑا ہی بلند ہے اللہ تعالیٰ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے، اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں وہی مالک ہے عرشی کریم کا
132 عظمت خداوندی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی بلند ہے اللہ یعنی ایسے تمام تصورات سے۔ یعنی اس سے کہ وہ اس کائنات کو یونہی بےمقصد و بیکار پیدا فرما دے اور انسان جیسی اشرف المخلوقات کو جو کہ اس ساری کائنات کا مخدوم ومطاع ہے اس کو یونہی بےمقصد اور بےکار چھوڑ دے۔ نہ اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہو نہ کوئی مشن اور نصب العین۔ بلکہ یہ پوری کائنات سے زندگی بھر طرح طرح کے فائدے اٹھاتے رہنے کے بعد یونہی مرکھپ کر ختم ہوجائے۔ سو ایسا نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ہر تصور سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے کہ وہ کوئی ایسا کار عبث کرے اور حکمتوں بھری اس کائنات اور اس کے مخدوم ومطاع اس انسان کو یونہی بےمقصد اور بےکار پیدا کر دے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید من القول والعمل بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام - 133 بادشاہ حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑا ہی بلند وبالا اور عظمت شان والا ہے اللہ جو کہ بادشاہ حقیقی ہے۔ اور جب ایک فانی اور مجازی بادشاہ بھی اس بات کو اپنی حکومت اور بادشاہی کے لوازم میں سے سمجھتا ہے کہ وہ اطاعت شعاروں اور فرمانبرداروں کو صلہ و انعام سے نوازے اور غداروں اور نافرمانوں کو قرار واقعی سزا سے تو پھر اس بادشاہ حقیقی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے بارے میں تم لوگ یہ گمان کس طرح کرسکتے ہو ؟ کہ وہ نیک و بد، صالح و طالح، متقی و ایماندار اور بےایمان و بدکردار سب کو ایک برابر رکھ دے گا۔ یہ اس کی شان اقدس و اعلیٰ کے خلاف ہے ۔ { اَ لَیْسَ اللّٰہُ بَاَحْکَمِ الْحَاکَمِیْنَ } ۔ بَلٰی یَا رَبَّنَا وَنَحْنُ عَلٰی ذَلِکَ لَمِنَ الشَّاہِدِیْنَ وَالشَّاکِرِیْنَ ۔ سو قیامت کے اس یوم فصل کا آنا عقل و نقل دونوں کے اعتبار سے ضروری ہے۔ تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست وبود بیکار قرار پاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 134 اللہ مالک ہے عرش عظیم کا : جو کہ اس کی عظمت شان اور جلالت قدر کا ایک اور اہم اور انفرادی پہلو ہے۔ سو فرمایا گیا کہ وہی مالک ہے عرش کریم کا۔ جو کہ سب کائنات پر حاوی اور اس کو محیط ہے۔ پس وہ ساری کائنات کا رب اور اس کا مالک ہے ۔ عَزَّ سُلْطَانُہُ وَ جَلَّ بُرْہَانُہ ۔ سو جب وہ اس عرش کریم کا مالک ہے جو کہ اس پوری کائنات پر حاوی اور اس پر محیط ہے تو پھر کوئی بھی چیز نہ اس کے احاطہ قدرت سے نکل سکتی ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے باہر ہوسکتی ہے۔ نیز جو ایسی عظیم الشان کائنات کا خالق ومالک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو اس کی کوئی بھی بات اور اس کی کوئی بھی تخلیق نہ بیکار ہوسکتی ہے اور نہ حکمت و مصلحت سے خالی۔ تو پھر انسان جیسی عظیم الشان مخلوق کس طرح عبث اور بیکار ہوسکتی ہے ؟
Top