Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس کو خدا گمراہ کر دے تو اس کے بعد اس کا کوئی کار ساز نہیں بن سکتا اور تم ان ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو کہیں گے، ہے کوئی راہ دنیا میں پھر واپس جانے کی !
-8 آگے کا مضمون آیات :50-44 آگے کی آیات کا تعلق اوپر آیت 36 کے مضمون سے ہے۔ وہاں سلسلہ کلام اس بات تک پہنچا تھا کہ یہ مخالفین جس زندگی پر ریجھے ہوئے ہیں یہ تو چند روزہ ہے، اصلی دولت جاوداں ان اہل ایمان کے لئے ہے جو اس دنیا کی چند روزہ زندگی کی جگہ آخرت کی کامرانیوں کے لئے بازی کھیل رہے ہیں۔ اس کے بعد چند آیات میں اہل ایمان کا کردار بیان ہوا تاکہ کلام مطالق حال ہوجائے اور اس وقت کے مسلمانوں پر یہ واضح ہوجائے کہ یہ بشارت انہی کے لئے ہے اور ان کے مخالفوں پر بھی واضح ہوجائے کہ آج جو لوگ ان کے ہاتھوں مظلوم ہیں اب ان کے لئے فتح باب کا وقت قریب ہے۔ اس کے بعد اپور کے سلسلہ مضمون کو از سر نو لے لیا اور پیغمبر ﷺ کو پہلے تسلی دی کہ جو لوگ خدا کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں ان کو کوئی دوسرا ہدایت دینے والا نہیں بن سکتا۔ ان لوگوں کی آنکھیں اس وقت کھلیں گی جب پانی سر سے گزر جائے گا۔ پھر آخری تنبیہ کے طور پر مخالفین کو یاد دہانی کی کہ اب بھی موقع ہے اگر سنبھلنا ہے تو سنبھل جائو۔ یہ وقت نکل گیا تو پھر کبھی واپس نہیں آئے گا۔ ساتھ ہی ان کے اصل سبب غرور کی طرف اشارہ کرتے ہئے یہ حقیقت واضح فرمائی۔ جس کو اجر کچھ بھی ملتا ہے خدا ہی کی عنایت سے ملتا ہے۔ لیکن انسان بڑا ہی ناشکرا ہے کہ خدا کی بخشی ہوئی نعمتوں کو خدا ہی سے بغاوت کا ذریعہ بنا لیتا ہے … اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔ 9۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت ومن یضلل اللہ فما لہ من ولی من بعدہ ط وتری الظلمین لما راو العذاب یقولون ھل الی مرد من سبیل 44 پیغمبر صلعم کی تسلی کے لئے سنت الٰہی کا حوالہ یہ پیغمبر ﷺ کی تسلی کے لئے اس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر فرمائی ہے کہ جن کو اللہ تعالیٰ ان کی ضلالت پسندی کے سبب سے گمراہی کی راہ پر ڈال دیتا ہے وہ خدا کی توفیق بخشی سے محروم ہوجاتے ہیں اور جو خدا کی توفیق و دسوت گیری سے محروم ہوجائیں کوئی دوسرا ان کا کار ساز نہیں بن سکتا۔ اب تم کتنا ہی زور لگائو لیکن جن پر خدا کی مار ہے وہ ہایت کی راہ اختیار کرنے والے نہیں بنیں گے۔ وتری الظلمین الآیۃ ظالمین سے مراد یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے گمرایہ کے لئے چھوڑ دیا۔ ان کے لئے اس صفت کے استعمال سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ یہ گمراہ کئے جانے کے مستحق اس وجہ سے قرار پائے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا، اس کی ہدایت کی قدر نہیں کی بلکہ آنکھیں بند کر کے اپنی خواہشوں کی پیروی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کفر و شرک میں مبتلا ہو کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ فرمایا کہ یہ محروم القسمت لوگ آج تو اپنی روش پر بہت نازاں ہیں لیکن جب خدا کے عذاب سے دوچار ہوں گے تو بڑی حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کیا دنیا کی طرف پلٹنے کی کوئی راہ اب بھی باقی ہے کہ وہاں جا کر وہ کچھ نیکی کی کمائی کریں کہ اس عذاب سے چھوٹ سکیں۔
Top