Tadabbur-e-Quran - Ash-Shura : 6
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ
وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے بنالیے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ دوست۔ سرپرست اللّٰهُ حَفِيْظٌ : اللہ تعالیٰ نگہبان عَلَيْهِمْ : ان پر وَمَآ اَنْتَ : اور نہیں آپ عَلَيْهِمْ : ان پر بِوَكِيْلٍ : حوالہ دار
اور جن لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں اللہ ان پر نگرانی رکھے ہوئے ہے اور تم ان پر داروغہ نہیں مقرر کئے گئے ہو۔
والذین اتخذوا من دونہ اولیآء اللہ حفیظ علیھم وما انت علیھم بوکیل (6) مشرکین کو نہایت سخت وعید یہ مشرکین کو نہایت سخت انداز میں وعید اور آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں اور تمام نبیہ و تذکیر کے باوجود اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں، اللہ ان کی کڑی نگرانی کر رہا ہے کہ جو نہی وہ اپنی مہلت پوری کرلیں ان کو اپنے قہر و غضب کے پنجہ میں گرفتار کر کے۔ اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو تسلی دی کہ خدا نے تم پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالی ہے کہ لازماً تم انکو ایمان کی راہ پر لگا ہی دو۔ تمہاری ذمہ داری تبلیغ حق کی تھی وہ تم نے کردی اور جب تم تمہارے رب کا حکم ہے کرتے رہو۔ اگر یہ ایمان نہ لائے تو اس کی پرسش انہی سے ہونی ہے، تم سے نہیں ہونی ہے۔ یہی مضمون آگے اسی سورة میں یوں آیا ہے۔ فان اعرضوا فما ارسلنک علیھم ط ان علیک الا البلغ (49) پس اگر یہ اعراض کریں تو ہم نے تم کو ان پر داروغہ بنا کر نہیں بھیجا ہے، تمہارے اوپر ذمہ داری صرف واضح طور پرہ پنچا دینے کی ہے۔
Top