Tafseer-e-Mazhari - Ash-Shura : 6
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ
وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے بنالیے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ دوست۔ سرپرست اللّٰهُ حَفِيْظٌ : اللہ تعالیٰ نگہبان عَلَيْهِمْ : ان پر وَمَآ اَنْتَ : اور نہیں آپ عَلَيْهِمْ : ان پر بِوَكِيْلٍ : حوالہ دار
اور جن لوگوں نے اس کے سوا کارساز بنا رکھے ہیں وہ خدا کو یاد ہیں۔ اور تم ان پر داروغہ نہیں ہو
والذین اتخذوا من دونہ اولیاء اللہ حفیظ علیھم وما انت علیھم بوکیل اور جن لوگوں نے دوسروں کو اللہ کے سوا کارساز قرار دے رکھا ہے ‘ اللہ خود ان کو دیکھ رہا ہے اور آپ کو ان پر اختیار نہیں دیا گیا۔ اَوْلِیَآء یعنی شرک اور مثل۔ حَفِیْظٌ عَلَیْھِمْ یعنی ان کے احوال کا نگراں جو ان کو ان کے اعمال کی سزا دے گا۔ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ یعنی اے محمد ! آپ کو ان پر اختیار نہیں دیا گیا کہ آپ ان کو اپنے مقصد کے مطابق (ہدایت پر) لے آئیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ آپ ان کے ذمہ دار نہیں ہیں ‘ ان کا معاملہ آپ کے سپرد نہیں کیا گیا۔
Top