Urwatul-Wusqaa - Ash-Shura : 6
وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ اللّٰهُ حَفِیْظٌ عَلَیْهِمْ١ۖ٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ
وَالَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا : اور وہ لوگ جنہوں نے بنالیے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ دوست۔ سرپرست اللّٰهُ حَفِيْظٌ : اللہ تعالیٰ نگہبان عَلَيْهِمْ : ان پر وَمَآ اَنْتَ : اور نہیں آپ عَلَيْهِمْ : ان پر بِوَكِيْلٍ : حوالہ دار
اور (اے پیغمبر اسلام ! ) جن لوگوں نے اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا کا رساز بنا رکھا ہے اللہ ان کو دیکھ رہا ہے ، آپ ان کے ذمہ دار نہیں
جو لوگ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں کو کار ساز جانتے ہیں آپ ﷺ ان پر داروغہ نہیں ہیں 6 ؎ انسانوں میں سے کتنے ہی ایسے ہیں جنہوں نے اپنا رشتہ عبودیت اللہ سے توڑ کر غیروں کے ساتھ جوڑ رکھا ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ غیروں کے وجود کو وہ دیکھ سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کو وہ دیکھ نہیں سکتے ان کو ماننا ہی نہیں آتا وہ غیر اللہ ہی کو اپنا حاجت روا اور مشکل کشا جانتے اور مانتے ہیں اور انہیں کے ناموں کی نذریں دیتے اور منتیں مانتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں۔ پہلے تو آخرت و اخرت کچھ ہے ہی نہیں لیکن آخرت اگر ہوئی بھی تو یہ ہمارے کام آئیں گے حالانکہ ان کے اس نظریہ کا کوئی جواز موجود نہیں تھا صرف ایک وہم تھا جو انہوں نے قائم کرلیا۔ آخرت لازم و ضروری ہے اور کس کو طاقت ہے کہ وہ اس روز کسی کی کسی طرح کی سفارش کرسکے اِلاّ یہ کہ خود اللہ ربِّ کریم کسی کو اجازت مرحمت فرما دے۔ رہی ان کی چالاکی اور تتر تیزی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے اور وہ بذاتہٖ ان پر نگہبان ہے اور رہے آپ ﷺ تو اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان پر کوئی داروغہ اور نگہبان و نگران نہیں لگائے گئے آپ ﷺ نے اپنا فرض منصبی پورا کردیا۔ رہی ان کی ذمہ داری اگر وہ اس کو پورا نہیں کر رہے تو وہ خود اپنے کیے کے ذمہ دار ہیں۔ آپ ﷺ سے ان کے متعلق پوچھ گچھ نہیں ہوگی اور نہ ہی آپ ﷺ ان کے کارساز و وکیل ہیں۔
Top