Tafseer-al-Kitaab - Al-Ahzaab : 4
وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ
وَ : اور لَقَدْ نَعْلَمُ : ہم خوب جانتے ہیں اَنَّهُمْ : کہ وہ يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں يُعَلِّمُهٗ : اس کو سکھاتا ہے بَشَرٌ : ایک آدمی لِسَانُ : زبان الَّذِيْ : وہ جو کہ يُلْحِدُوْنَ : کجراہی (نسبت) کرتے ہیں اِلَيْهِ : اس کی طرف اَعْجَمِيٌّ : عجمی وَّھٰذَا : اور یہ لِسَانٌ : زبان عَرَبِيٌّ : عربی مُّبِيْنٌ : واضح
(لوگو، ) اللہ نے کسی آدمی کے سینے میں دو دل نہیں رکھے اور نہ اس نے تم لوگوں کی بیویوں کو جن سے تم ظہار کرلیتے ہو تمہاری ماں بنادیا اور نہ تمہارے لے پالک بیٹوں کو تمہارے (سچ مچ) بیٹے بنادیا۔ یہ تو صرف تمہارے منہ سے کہنے کی باتیں ہیں اور حق بات تو اللہ کہتا ہے اور وہی (لوگوں کو سیدھا) راستہ دکھاتا ہے۔
[1] ظہار سے مراد ہے بیوی کو ماں سے تشبیہ دینا۔ زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ بیوی سے لڑائی جھگڑا کرتے ہوئے کبھی یہ بات کہہ بیٹھتے تھے کہ تیری پیٹھ ایسی ہے جیسی میری ماں کی پیٹھ۔ اور یہ ظہار طلاق سمجھی جاتی تھی۔ [2] یعنی تمہارا بیوی کو ماں کہنا اور لے پالک کو بیٹا کہنا بےحقیقت باتیں ہیں۔ جس طرح ایک آدمی کے دو دل نہیں اسی طرح ایک شخص کی حقیقتاً دو مائیں یا بیٹے کے دو باپ نہیں۔
Top