Ahkam-ul-Quran - Saad : 44
وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ
وَخُذْ : اور تو لے بِيَدِكَ : اپنے ہاتھ میں ضِغْثًا : جھاڑو فَاضْرِبْ بِّهٖ : اس سے مار اس کو وَلَا تَحْنَثْ ۭ : اور قسم نہ توڑ اِنَّا : بیشک ہم وَجَدْنٰهُ : ہم نے اسے پایا صَابِرًا ۭ : صابر نِعْمَ الْعَبْدُ ۭ : اچھا بندہ اِنَّهٗٓ : بیشک وہ اَوَّابٌ : (اللہ کی طرف) رجوع کرنے والا
اور اپنے ہاتھ جھاڑو لو اور اس سے مارو اور قسم نہ توڑو بیشک ہم نے ان کو ثابت قدم پایا بہت خوب بندے تھے بیشک وہ رجوع کرنے والے تھے
حضرت ایوب (علیہ السلام) کا قسم نہ توڑنے کا حیلہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث ۔ اور اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا سینکوں کا لے لو اور اس سے مارو اور اپنی قسم نہ توڑو ) حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کی بیوی کو ابلیس نے کہا تھا۔” اگر میں نہیں شفادے دوں تو تم مجھ سے یہ کہنا کہ تم نے شفا دی ہے۔ “ بیوی نے یہ بات حضرت ایوب کو بتادی جسے سن کر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے قسم کھالی کہ اگر اللہ مجھے شفا دے گا تو میں تمہیں سو کوڑے لگائوں گا۔ پھر آپ نے سو کے قریب سخت شاخ کے اوپر نکلنے والی باریک ٹہنیاں لیں ان کا مٹھا بنایا اور اس سے ایک دفعہ بیوی کے جسم پر ضرب لگائی ان باریک ٹہنیوں کو شماریخ کہا جاتا ہے۔ عطا کا قول ہے کہ تمام لوگوں کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ ہمیں عبداللہ بن محمد بن اسحاق نے روایت بیان کی ، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے ایک شاخ لی جس میں ننانوے مزید شاخیں تھیں اور اس شاخ کو ملا کر کل سو لکڑیاں ہوگئیں اور اس شاخ سے اپنی بیوی کو ایک ضرب لگائی، اس کی وجہ یہ تھی کہ شیطان نے بیوی کو اس بات پر تیار کیا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے کہیں کہ وہ فلاں فلاں کلمات اپنی زبان سے کہیں۔ چناچہ بیوی نے ان سے یہ کلمات اپنی زبان سے ادا کرنے کے لئے کہا ، جسے سن کر حضرت ایوب (علیہ السلام) نے بیوی کی پٹائی کی قسم کھالی۔ چناچہ آپ نے اپنی قسم پوری کرنے اور بیوی کی پٹائی میں تخفیف کرنے کی خاطر اس شاخ سے ان کے جسم پر ایک ضرب لگادی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ جو شخ اپنے غلام کو دس چھڑی مارنے کی قسم کھالے اور پھر دس چھڑیاں جمع کرکے ایک دفعہ اسے ضرب لگائے تو اس کی قسم پوری ہوجائے گی بشرطیکہ دس چھڑیاں پوری کی پوری لگ جائیں۔ کیونکہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث) ضغث ایک مٹھے لکڑی یا کوڑے یا نرم شاخوں وغیرہ کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ قسم کھانے والا جب یہ کرے گا اس کی قسم پوری ہوجائے گی کیونکہ قول باری ہے (ولا تحنث) آرائے ائمہ اس بارے میں فقہاء کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف، امام محمد اور زفر کا قول ہے کہ اگر قسم کھانے والا ایک مٹھے سے ایک دفعہ ضرب لگائے گا بشرطیکہ مٹھے کی ہر لکڑی وغیرہ اسے لگ جائے تو اس کی قسم پوری ہوجائے گی۔ امام مالک اور لیث کا قول ہے کہ اس کی قسم پوری نہیں ہوگی۔ لیکن ان کا یہ قول کتاب اللہ کے خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ قسم کھانے والا اگر اس طرح کرلے گا تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ مجاہد سے مروی ہے کہ یہ طریق کار صرف حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لئے مخصوص تھا جبکہ عطاء کا قول ہے کہ یہ تمام لوگوں کے لئے ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ پہلے قول کی صحت پر آیت کی دلالت دو وجوہ سے واضح ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ جو شخص یہ طریق کا ر اختیار کرے گا وہ اپنی مشروط تعداد کے ساتھ ضارب یعنی ضرب لگانے والا کہلائے گا اور یہ بات اس کی قسم پوری ہوجانے کی مقتضی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ایسا شخص حانث نہیں ہوگا کیونکہ قول باری ہے (ولا تحنث) ۔ جو حضرات امام مالک کے مسلک کے حق میں استدلال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ آیت میں مذکورہ طریق کار صرف حضرت ایوب (علیہ السلام) کے لئے مخصوص تھا اس لئے کہ قول باری ہے (فاضرب بہ ولا تحنث) جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب سے حنث کو ساقط کردیا تو ان کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوگئی جس پر کفارہ لازم ہوگیا تھا اور اس نے یہ کفارہ ادا کردیا تھا یا اس شخص کی طرح جس نے کسی چیز کی قسم ہی نہیں کھائی تھی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ استدلال ظاہری طور پر ساقط اور بےمعنی ہے۔ کوئی سمجھدار آدمی اس قسم کا استدلال نہیں کرسکتا کیونکہ اس میں نہ صرف تناقض اور استحالہ ہے بلکہ یہ ظاہر کتاب کے بھی خلاف ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ قسم کھانے والا جب یہ کرلے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ قسم کے اندر دو باتیں ہوتی ہیں۔ قسم کا پورا ہونا یا اس کا ٹوٹ جانا۔ جب اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ ایسا شخص حانث نہیں ہوتا تو گویا اس نے یہ بتادیا کہ اس کی قسم پوری ہوگئی کیونکہ ان دونوں کے درمیان کوئی تیسری بات نہیں ہوتی۔ اس استدلال کے تناقض اور استحالہ کی وجہ یہ ہے کہ یہ استدلال اس امر کا موجب ہے کہ جو شخص اپنی قسم اس طرح پوری کرلے کہ جس چیز کی اس نے قسم کھائی تھی اسے کر گزرے تو اس کی حیثیت اس شخص کی طرح ہوجائے گی جس پر مستدل کے بقول حنث کے سقوط کی بنا پر کفارہ واجب ہوگیا ہو۔ اگر یہ طریق کار حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ساتھ خاص ہوتا اور اس کی حیثیت ایک عبادت کی ہوتی جس کا بجالانا صرف ان کی ذات تک محدود ہوتا اور دوسرے اس میں شریک نہ ہوتے تو اس صورت میں اللہ تعالیٰ کو چاہیے تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) سے حنث کو ساقط کردیتا اور ان پر کوئی چیز لازم نہ کرتا خواہ انہوں نے اپنی بیوی کو ضرب نہ بھی لگائی ہوتی۔ اس صورت میں بیوی کو ضرب لگانے کے حکم الٰہی کے کوئی معنی نہ ہوتے کیونکہ ضرب لگا کر بھی حضرت ایوب اپنی قسم پوری کرنے والے نہ ہوتے۔ اس مستدل کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ مختلف اوقات میں جس کو امر تعبدی کے طور پر جو حکم دینا چاہے دے سکتا ہے چناچہ زانی کو ضرب لگانے کا جو حکم ہمیں ملا ہے اس کے متعلق اس مستدل کا قول ہے کہ اگر اسے نرم شاخوں کے مٹھے سے ایک ضرب لگائی جائے تو یہ حد نہیں کہلائے گی۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اگر زانی کو نرم شاخوں کے مٹھے سے ضرب لگائی جائے تو اس صورت میں اس کا جواز نہیں ہوگا۔ جب زانی صحت مند اور تندرست ہو لیکن اگر بیمار ہو تو اس کا جواز ہوگا بشرطیکہ اس کی جان کو خطرہ ہو ۔ کیونکہ زانی کی صحت مند ہونے کی صورت میں اگر ان نرم شاخوں سے علیحدہ علیحدہ اسے ضرب لگائی جاتی تو یہ جائز نہ ہوتی اور اگر کچھ کوڑے اکٹھے کرلیے جاتے اور ان سے اسے ضرب لگائی جاتی اور ہر کوڑا اسے لگ جاتا تو اس صورت میں گنتی پوری کرنے کے لئے ان ہی کوڑوں کے ذریعہ اس پر ضرب کا اعادہ کیا جاتا اور اگر کوڑے پہلے ہی اکھٹے ہوتے تو جمع اور تفریق کی حالت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ لیکن بیماری کی حالت میں یہ جائز ہے کہ نرم شاخوں یا تازیانوں کی ضرب پر اقتصار کرلیاجائے اس صورت میں انہیں اکٹھا کرکے ایک ضرب لگانا جائز ہے۔ اس بارے میں ایک روایت بھی موجود ہے جو ہمیں محمد بن بکر نے بیان کی ہے، انہیں ابودائود نے، انہیں احمد بن سعید الہمدانی نے، انہیں ابن وہب نے، انہیں یونس نے ابن شہاب سے، انہیں ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے حضور ﷺ کے ایک انصاری صحابی سے کہ ایک انصاری شخص بیمار پڑگئے اور ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے، اتفاق سے ایک لونڈی کسی کام سے ان کے پاس گئی۔ اسے دیکھ کر ان پر شہوت کا غلبہ ہوگیا اور اس کے ساتھ بدکاری کے مرتکب ہوگئے۔ جب ان کی برادری کے لوگ ان کی عیادت کو آئے تو انہوں نے ان لوگوں کو ساری بات بتادی اور یہ بھی کہا کہ حضور ﷺ سے جاکر فتویٰ پوچھیں ۔ لوگوں نے حضور ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا اور یہ بھی عرض کیا اسے جو کمزوری اور بیماری لاحق ہے وہ ہمیں کسی میں نظر نہیں آئی اگر ہم اسے آپ کے پاس اٹھا کر لائیں تو اس کی ہڈیاں الگ الگ ہوجائیں وہ تو ہڈیوں کا ڈھانچہ ہے۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ سو شماریخ یعنی سخت شاخ پر نکلنے والی باریک اور نرم شاخیں لی جائیں اور ان سے اس کے جسم پر صرف ایک ضرب لگادی جائے۔ اسے بکیربن عبداللہ بن الاشج نے ابوامامہ بن سہل سے، اور انہوں نے سعید بن سعد سے روایت کی ہے اس میں الفاظ یہ ہیں۔ ” ایک غتکال (کھجور کا گچھا) لے لو جس میں سو پتلی اور نرم شاخیں ہوں اور اس سے ایک دفعہ مارو۔ “ چناچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ اس شخص کا نام سعید بن سعد بن عبادہ تھا، انہوں نے حضور ﷺ کو دیکھا تھا۔ ابوامامہ بن سہل بن حنیف حضور ﷺ کی زندگی میں پیدا ہوئے تھے۔ فصل شوہر تادیب کے طور پر بیوی کی پٹائی کرسکتا ہے آیت زیر بحث میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ شوہر تادیب کے طور پر اپنی بیوی کی پٹائی کرسکتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو حضرت ایوب (علیہ السلام) اپنی بیوی کو مارنے کی قسم نہ کھاتے اور ان کی پٹائی نہ کرتے۔ نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس حلف کی بناء پر انہیں اپنی بیوی کو ضرب لگانے کا حکم نہ دیا جاتا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی پٹائی کی اباحت کا جو حکم بیان کیا ہے وہ اس صورت میں ہے جب عورت کی طرف سے سرکشی اور نفرت کا اظہار ہو چناچہ ارشاد ہے (واللاتی تخافون نشوزھن اور وہ عورتیں جن کی سرکشی اور نفرت کا تمہیں خوف ہو) تاقول باری (واضربوھن اور ان کی پٹائی کرو) حضرت ایوب علیہالسلام کا جو واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ بیوی کو ان کی پٹائی تادیب کی بنا پر تھی۔ بیوی کی طرف سے سرکشی اور نفرت کے اظہار کی بنا پر نہیں تھی۔ قول باری (الرجال قوامون علی النساء مرد عورتوں پر قوام ہیں) کے سلسلے میں جس واقعہ کی روایت ہے اس کی دلالت بھی حضرت ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ کی دلالت کی طرح ہے کیونکہ یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو ایک طمانچہ ماردیا۔ بیوی کے رشتہ داروں نے قصاص لینے کا ارادہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت (الرجال قوامون علی النساء) تا آخر آیت نازل فرمائی۔ آیت میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ ایک شخص کسی چیز کی قسم کھالے اور اس میں استثناء نہ کرے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے قسم کھائی تھی اور اپنی قسم میں کوئی استثناء نہیں کیا تھا اس کی نظیر حضور ﷺ کی سنت میں موجود ہے۔ اشعر یین نے آپ سے سواری کے لئے جانور مانگے۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : ” بخدا ! میں تمہیں سواری کے لئے جانور نہیں دوں گا۔ “ آپ نے اپنی قسم میں استثناء نہیں کیا۔ پھر اس کے بعد انہیں جانور دے دیے اور فرمایا : ” جو شخص کسی بات کی قسم کھالے اور پھر اسے دوسری بات بہتر نظر آئے تو اسے چاہیے کہ دوسری بات اختیار کرلے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کردے۔ آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ جو شخص کسی چیز کی قسم کھالے اور پھر اسے دوسری بات بہتر نظر آئے اور جس چیز کی اس نے قسم کھائی تھی وہ کر ڈالے تو اس پر کفارہ لازم آئے گا۔ اس لئے کہ اس صورت میں اگر کفارہ لازم نہ ہوتا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) اس بات کو چھوڑ دیتے جس کی انہوں نے قسم کھائی تھی۔ اور انہیں اپنی بیوی کو سینکوں کے مٹھے سے مارنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ یہ بات ان لوگوں کے قول کے خلاف ہے جو یہ کہتے ہیں کہ اگر قسم کھانے والا بہتر کام کرلے تو اس پر کفارہ لازم نہیں آئے گا۔ حضور ﷺ سے ایک روایت بھی ہے کہ ” جو شخص کسی چیز کی قسم کھالے اور دوسری چیز اسے بہتر نظر آئے تو بہتر چیز کو اختیار کرلے اور یہی اس کی قسم کا کفارہ ہوگا۔ “ آیت میں یہ دلیل بھی موجود ہے کہ تعزیری سزا حد کی سزا سے متجاوز ہوسکتی ہے کیونکہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کے واقعہ میں ذکر ہے کہ آپ نے بیوی کو سو چھڑیاں مارنے کی قسم کھائی تھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی قسم پوری کرنے کا حکم دیا۔ تاہم حضور ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا (من بلغ حدا فی غیر حد فھو من المعتدین ۔ جو شخص حد کی سزا کے سوا کسی کو سزا دینے میں حد کی سزا تک پہنچ جائے وہ حد سے تجاوز کرنے والا شمار ہوگا) ۔ آیت میں یہ دلیل موجود ہے کہ قسم اگر مطلق ہو یعنی اس میں وقت کا ذکر نہ ہو تو اسے مہلت پر محمول کیا جائے گا، علی الفور کے معنوں پر محمول نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ واضح ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے صحت یابی کے فوراً بعد اپنی بیوی کو نہیں پیٹا تھا۔ اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ جو شخص اپنے غلام کی پٹائی کی قسم کھالے وہ اسی صورت میں اپنی قسم پوری کرے گا جب غلام کی پٹائی اپنے ہاتھوں سے کرے گا کیونکہ قول باری ہے (وخذ بیدک ضغثا) تاہم ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ جو شخص اپنے اتھوں سے خود پٹائی نہ کرسکتا ہو اگر وہ کسی اور سے پٹائی کے لئے کہے تو وہ حانث نہیں ہوگا کیونکہ عرف اور دستور یہی ہے ۔ آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ قسم کے اندر استثناء اس وقت درست ہوتا ہے جب وہ قسم کے ساتھ متصل ہو۔ کیونکہ اگر استثناء وقفہ کے بعد درست ہوتا تو حضرت ایوب (علیہ السلام) کو استثناء کا حکم دیا جاتا بیوی کی پٹائی کا حکم نہ دیا جاتا۔ آیت میں یہ دلیل بھی ہے کہ ایک جائز فعل کو اختیار کرنے اور اپنی ذات سے یا کسی اور سے تکلیف دہ بات کو دور کرنے کے لئے حیلہ کرنا جائز ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو سینکوں کے مٹھے سے اپنی بیوی کو مارنے کا حکم دیا تاکہ اس طرح وہ اپنی قسم پوری کرلیں اور بیوی کو زیادہ تکلیف نہ پہنچے۔
Top