Tafheem-ul-Quran - Al-Maaida : 60
جُنْدٌ مَّا هُنَالِكَ مَهْزُوْمٌ مِّنَ الْاَحْزَابِ
جُنْدٌ : ایک لشکر مَّا : جو هُنَالِكَ : یہاں مَهْزُوْمٌ : شکست خوردہ مِّنَ الْاَحْزَابِ : گروہوں میں سے
پھر کہو ”کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سُور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ ان کا درجہ اور بھی زیادہ بُرا ہے اور وہ سَوَاءُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں“۔91
سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة 91 لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بےحیائی اور مجرمانہ بےباکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہو۔
Top