Al-Quran-al-Kareem - Saad : 8
وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ
وَلَوْ : اور اگر كَانُوْا يُؤْمِنُوْنَ : وہ ایمان لائے بِاللّٰهِ : اللہ پر وَالنَّبِيِّ : اور رسول وَمَآ : اور جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْهِ : اس کی طرف مَا : نہ اتَّخَذُوْهُمْ : انہیں بناتے اَوْلِيَآءَ : دوست وَلٰكِنَّ : اور لیکن كَثِيْرًا : اکثر مِّنْهُمْ : ان سے فٰسِقُوْنَ : نافرمان
کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انھوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔
ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا : یہ ہے وہ اصل بات جس سے ان کے نبی ﷺ کی نبوت تسلیم نہ کرنے کی وجہ ظاہر ہو رہی ہے اور وہ ہے آپ ﷺ پر حسد اور حسد کی وجہ سے عداوت کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سرداروں اور چودھریوں کو چھوڑ کر آپ ﷺ کو اس بلند منصب کے لیے کیوں چنا ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس حسد اور عداوت کا کئی جگہ ذکر فرمایا اور اس کا رد فرمایا، جیسا کہ فرمایا : (وَاِذَا جَاۗءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) [ الأنعام : 124 ] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا، اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔“ اور فرمایا : (وَقَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰي رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَـتَيْنِ عَظِيْمٍ۔ اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) [ الزخرف : 31، 32 ] ”اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا ؟ کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں ؟“ اسی حسد کا اظہار قوم ثمود نے صالح ؑ پر کیا تھا : (ءَاُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ اَشِرٌ۔ سَيَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْكَذَّابُ الْاَشِرُ) [ القمر : 25، 26 ] ”کیا یہ نصیحت ہمارے درمیان میں سے اسی پر نازل کی گئی ہے ؟ بلکہ وہ بہت جھوٹا ہے، متکبر ہے۔ عنقریب وہ کل جان لیں گے کہ بہت جھوٹا، متکبّر کون ہے ؟“ بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ : ”شَكٍّ“ سے مراد ذہن کی وہ کیفیت ہے جس میں آدمی دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ترجیح نہ دے سکے۔ اللہ تعالیٰ نے اس جملے میں ان کے دل کی حالت بیان فرمائی ہے کہ ان کے پاس میرے ذکر کو جھٹلانے کی کوئی معقول وجہ نہیں مگر وہ حسد کی وجہ سے اس پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں، اس لیے وہ اس کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں۔ اگر حسد چھوڑ کر تھوڑا سا غور کریں تو انھیں یقین کی نعمت حاصل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے صالح ؑ کی قوم کا حال خود ان کی زبانی یہی بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة ہود (62)۔ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ : ”لَمْ یَذُوْقُوْا“ انھوں نے نہیں چکھا اور ”لَّمَّا يَذُوْقُوْا“ انھوں نے ابھی تک نہیں چکھا۔ ”عَذَابِ“ اصل میں ”عَذَابِيْ“ (میرا عذاب) ہے۔ آیات کے فواصل کی موافقت کے لیے یاء حذف کرکے کسرہ باقی رہنے دیا ہے۔ یعنی ان کے ایسی باتیں کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ ان میں کوئی حقیقت ہے، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے ابھی تک میری مار نہیں چکھی۔ جب میری مار پڑی تو ان کے سب کَس بَل نکل جائیں گے اور انھیں ایسی باتیں کرنے کا ہوش نہیں رہے گا۔
Top