Anwar-ul-Bayan - Saad : 70
اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
اِنْ يُّوْحٰٓى : نہیں وحی کی جاتی اِلَيَّ : میری طرف اِلَّآ : سوائے اَنَّمَآ : یہ کہ اَنَا نَذِيْرٌ : میں ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
میری طرف تو یہی وحی جاتی ہے کہ میں کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
(38:70) ان یوحی الی الا انما انا نذیر مبین : ان نافیہ ہے۔ یوحی مضارع مجہول واحد مذکر غائب ایحاء افعال مصدر سے۔ وحی مادہ۔ وحی کی جاتی ہے۔ الا حرف استثناء انما میں ان حرف مشبہ بالفعل ہے ما کافہ ہے حصر کے معنی دیتا ہے اور ان کو عمل سے روکتا ہے۔ بیشک ، تحقیق بجز اس کے نہیں۔ انا میں ضمیر واحد متکلم نذیر مبین موصوف و صفت۔ کھلا ڈرانے والا۔ انما انا نذیر مبین۔ یا تو یوحی کا نائب فاعل ہے یعنی نہیں آتی میرے پاس وحی مگر یہ کہ میں (تم کو اللہ کے عذاب سے کھلا ڈرانے والا ہوں۔ یا یہ فقرہ مفعول لہ ہے اور علت ہے وحی کے آنے کی۔ یعنی نہیں آتی میرے پاس وحیہ مگر اس سبب (یا وجہ) سے کہ میں (تم کو اللہ کے عذاب سے) ڈرانے والا ہوں۔
Top