Tafseer-e-Baghwi - Maryam : 61
جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا
جَنّٰتِ عَدْنِ : ہمیشگی کے باغات الَّتِيْ : وہ جو وَعَدَ : وعدہ کیا الرَّحْمٰنُ : رحمن عِبَادَهٗ : اپنے بندے (جمع) بِالْغَيْبِ : غائبانہ اِنَّهٗ : بیشک وہ كَانَ : ہے وَعْدُهٗ : اس کا وعدہ مَاْتِيًّا : آنے والا
(یعنی) بہشت جاودانی (میں) جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے (اور جو کوئی آنکھوں سے) پوشیدہ (ہے) بیشک اس کا وعدہ (نیکوکاروں کے سامنے) آنے والا ہے
61۔ جنات عدن التی وعدالرحمن عبادہ بالغیب، جو انہوں نے نہیں دیکھی، انہ کان وعدہ ماتیا، مفعول بمعنی فاعل کے ہے۔ یہاں اتیاذکر نہیں کیا کیوں کہ جو آتا ہے وہ پہنچ ہی جاتا ہے۔ عرب کے ہاں بھی کہنے والے کا قول کے اعتبار میں کوئی فرق نہیں جیسے کوئی کہے ، اتت علی خمسون سنۃ، اور اس قول کے درمیان کہ وہ کہے ، اتیت علی خمسین کہ مجھ پر پچاس سال گزر گئے یا میں پچاس سال پر گزر گیا، اور اس طرح کوئی کہے ، وصل الی الخیر ووصلت الی الخبر، ابن جریر کا قول ہے کہ ودعدہ کا معنی ہے موعود پورا کیا ہوا، اور وہ جنگ ہے جس میں اولیاء اور فرمانبردار آئیں گے۔
Top