Asrar-ut-Tanzil - Yaseen : 14
اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ
اِذْ : جب اَرْسَلْنَآ : ہم نے بھیجے اِلَيْهِمُ : ان کی طرف اثْنَيْنِ : دو فَكَذَّبُوْهُمَا : تو انہوں نے جھٹلایا انہیں فَعَزَّزْنَا : پھر ہم نے تقویت دی بِثَالِثٍ : تیسرے سے فَقَالُوْٓا : پس انہوں نے کہا اِنَّآ : بیشک ہم اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف مُّرْسَلُوْنَ : بھیجے گئے
جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا پھر ہم نے تیسرے (پیغمبر) سے تائید فرمائی تو انہوں نے فرمایا بیشک ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 14 تا 21: اسرار و معارف : آپ ان لوگوں کو اس شہر کے باسیوں کی مثال دیجیے جن کے پاس اسی طرح انبیاء آئے تھے جیسے آپ ان کے پاس تشریف لائے ہیں بلکہ ہم نے وہاں بیک وقت دو نبی مبعوث فرمائے کہ انہیں بات خوب طرح سے سمجھائیں شاید ایک حکمت یہ بھی ہو دین حق میں جب لوگوں کو اپنے اوہام باطلہ اور خواہشات نفس کی مخالفت نظر آئے تو اکثر غور و فکر کی بجائے مخالفت کرتے ہیں اور داعی یا مبلغ کو پاگل اور دیوانہ قرار دیتے ہیں مگر کوئی دو پاگل بھی ایک بات پہ متحد نہیں ہوسکتے اور نہ یہ ممکن ہے کہ ان کا سارا کردار تو انتہائی پاکیزہ ہو اور عقیدہ کے معاملے میں دونوں پاگل ہوں۔ لوگوں نے ان کی بات ماننے سے انکار کردیا بلکہ انہیں یہ کہہ دیا کہ آپ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اس پر اللہ کی شان کریمی کہ ایک اور نبی بھیج دیا تاکہ ان دونوں کی بات کی تائید کرے اور لوگوں کو سمجھانے میں معاون ہو چناچہ اس نے بھی جا کر دعوت دی اور کہا کہ ہم سب اللہ کی طرف سے تمہاری طرف مبعوث ہوئے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ ہمیں تو تم لوگوں میں کوئی ایسی خاص بات نظر نہیں آتی بلکہ تم لوگ بھی ہماری ہی طرح بشر ہو۔ یہ عجیب بات ہے کہ کسی نے نبی کو بشر مان کر اس کی نبوت کا انکار کردیا تو کسی کو نبوت ماننے کی توفیق ہوئی تو نبی کے بشر ہونے سے انکار کردیا حق یہ ہے کہ انبیاء آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور بشر ہی ہوتے ہیں مگر ہماری طرح بشر نہیں بلکہ ان کے قلوب ان کے وجود مھبط وحی ہوتے ہیں غیر نبی کی بشریت نبی کی بشریت کی مثل نہیں ہوسکتی ان کی بشریت بھی غیر نبی کی روحانیت تک سے لطیف تر ہوتی ہے نیز کہنے لگے کہ اللہ کے رحمن ہونے کی بات الگ مگر اس نے کچھ نازل نہیں فرمایا یہ سب آپ لوگوں نے گھڑ لیا ہے تو ان کا اللہ کو رحمن ماننا بھی مذاق تھا جب انبیاء کی نبوت کا انکار کردیا اس طرح تو مجبورا ہر باطل فرقے کو بھی بالآخر ایک سب سے بڑی طاقت ماننا ہی پڑتی ہے انبیاء نے فرمایا کہ دلائل عقلی اور نقلی تمہارے سامنے ہیں اس کے بعد اللہ ہی کی شہادت ہے ہم اس کی قسم بھی دیتے ہیں کہ اللہ نے ہمیں تمہارے پاس مبعوث فرمایا ہے اور یہ بھی سن لو ہماری ذمہ داری بات کا پہنچانا تھا ماننے یہ نہ ماننے کا اختیار تمہارے پاس ہے اور نتیجہ بھی تم لوگ ہی بھگتو گے۔ لوگ برائی کو فساد نہیں کہتے بلکہ برائی سے روکنے کو فساد کہتے ہیں : تو لوگوں نے کہا کہ تم لوگ نبوت کے دعوے کرتے ہو حالانکہ تم سے پہلے یہاں کا ماحول پر امن تھا تم لوگ آئے نئی باتیں ہوئیں لوگ مختلف آراء ہوگئے اختلافات بڑھ گئے ہم تو سمجھتے ہیں کہ یہ سب تم لوگوں کی نحوست ہے تم لوگ تو بھلے آدمی بھی نہیں ہو اور اگر تم اپنی باتوں سے باز نہ آئے تو ہم تمہیں سنگسار کردیں گے نہ صرف یہ بلکہ پہلے خوب ایذا دیں گے اور سخت سزاؤں کے بعد پھر پتھر مار مار کر قتل کردیں گے۔ انبیاء نے جواب دیا کہ بھلا برائی اور کفر پر کبھی اتحاد ہوا کرتا ہے یہ تو اجتماعی خود کشی کی طرح ہے کہ آخر کار سب کی تباہی کا باعث بنتی ہے اور حق کی طرف بلانا تو اس مصیبت سے بچانے کے لیے ہے۔ ہاں دعوت حق کی مخالفت کرنے والا فسادی ہوتا ہے جو تم کر رہے ہو اور کفر پہ جم رہنا ہی سب سے بڑی منحوس بات ہے جو تم نے اختیار کر رکھی ہے اور اس میں اس قدر ڈوب گئے ہو کہ اتنی سی بات پر بھڑک اٹھے ہو اور اس قدر زیادتی کرنا چاہتے ہو حالانکہ تمہاری ہی بھلائی کے لیے تمہیں نصیحت کی گئی ہے۔ اسی شہر کے دوسرے سرے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا جو ایمان قبول کرچکا تھا اور قوم کو انبیاء سے جھگڑا کرنے کی خبر پا کر بھاگا آیا اور سب سے کہا اے میری قوم میں تو تمہارے ہی میں سے ایک ہوں مجھ پر اعتماد کرو تمہاری بھلائی اللہ کے رسولوں کی اطاعت میں اور ان کی اطاعت قبول کرلو۔ دیکھو انہیں تم سے لالچ ہے نہ تم سے کوئی مطالبہ اور بات جو کہتے ہیں وہ بھی حق ہے تو بھلا نہ ماننے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے۔ (پارہ تئیس شروع ہوتا ہے)
Top