Urwatul-Wusqaa - Yaseen : 14
اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ
اِذْ : جب اَرْسَلْنَآ : ہم نے بھیجے اِلَيْهِمُ : ان کی طرف اثْنَيْنِ : دو فَكَذَّبُوْهُمَا : تو انہوں نے جھٹلایا انہیں فَعَزَّزْنَا : پھر ہم نے تقویت دی بِثَالِثٍ : تیسرے سے فَقَالُوْٓا : پس انہوں نے کہا اِنَّآ : بیشک ہم اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف مُّرْسَلُوْنَ : بھیجے گئے
جبکہ ہم نے ان کے پاس دو پیامبروں کو بھیجا سو انہوں نے انہیں جھٹلایا دیا پھر ہم نے تیسرے رسول کے ذریعے ان کو تقویت دے دی ان تینوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔
5:۔ ابن سعد وابن عساکر نے الکلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ایک ہزار اور نوسو سال کا عرصہ تھا ان دونوں کے درمیان بنی اسرائیل کے لئے ایک ہزار نبیوں کا بھیجا گیا پھر دوسری قوم سے رسول بھیجا گیا اور عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی کریم ﷺ کے درمیان پانچ سو انہتر سال کا عرصہ ہے اس کے اول میں تین انبیاء بھیجے گئے اسی کو فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ (جب ہم نے ان کی طرف دو کو بھیجا انہوں نے ان کو جھٹلادیا پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ مدد کی اور جس نے ان کی مدد کی وہ شمعون تھے اور وہ حواریوں میں سے تھے اور فترۃ کا وہ عرصہ جس میں کوئی رسول نہیں تھا چار سو چونتیس سال کا عرصہ ہے۔ 6:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین “ سے مراد ہے کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ عسی بن مریم (علیہ السلام) نے حواریوں میں سے دو آدمی بستی والوں کی طرف بھیجے اور وہ بستی انطاکیہ ہے اور پھر ان کی پیچھے تیسرے کو بھیجا۔ 7:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث “ سے مراد ہے کہ تیسرا آدمی اس لئے بھیجا تاکہ ان پر دلیل زیادہ مضبوط ہوجائے وہ لوگ بستی والے کے پاس آئے اور ان کو اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت کی طرف بلایا جس کا کوئی شریک نہیں تو انہوں نے جھٹلایا۔ 8:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے شعیب جبائی (رح) سے روایت کیا کہ قاصدوں کے نام جن کو بھیجا گیا تھا جن کے بارے میں فرمایا (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین “ وہ شمعون اور رضا تھے اور تیسرے کا نام بولص تھا۔ 9:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فعززنا بثالث “ میں زاء م مخففہ ہے۔ اللہ کے داعی کا قتل بڑا گناہ ہے : 10:۔ ابن المنذر (رح) نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ارسلنا الیھم اثنین “ میں تیسرے کا نام جس کے ساتھ ان کی مدد کی گئی شمعون بن یوحنا تھا اور تیسرا بولص تھا لوگوں کا خیال ہے کہ تینوں کو اکھٹے قتل کردیا گیا اور جب آیا جو ایمان کی چھپائے ہوئے تھا (آیت) ” قال یقوم اتبعوا المرسلین “ (کہا اے میری قوم بھیجے ہوؤں کی تابعداری کرو) جب انہوں نے اس کو دیکھا تو اس نے اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور کہا (آیت) ” انی امنت بربکم فاسمعون “ (کہ میں اپنے رب کے ساتھ ایمان لے آیا ہوں) اور یہ بڑھائی کا کام کرتا ہے انہوں نے اس کو کنویں میں ڈال دیا کنویں کا نام رأس ہے۔ اور یہ اصحاب رأس ہیں۔
Top