Jawahir-ul-Quran - Saad : 8
ءَاُنْزِلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَیْنِنَا١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِیْ١ۚ بَلْ لَّمَّا یَذُوْقُوْا عَذَابِؕ
ءَاُنْزِلَ : کیا نازل کیا گیا عَلَيْهِ : اس پر الذِّكْرُ : ذکر (کلام) مِنْۢ بَيْنِنَا ۭ : ہم میں سے بَلْ : بلکہ هُمْ : وہ فِيْ شَكٍّ : شک میں مِّنْ ذِكْرِيْ ۚ : میری نصیحت سے بَلْ : بلکہ لَّمَّا : نہیں يَذُوْقُوْا : چکھا انہوں نے عَذَابِ : میرا عذاب
کیا اسی پر10 اتری نصیحت ہم سب میں سے کوئی نہیں ان کو11 دھوکا ہے میری نصیحت میں کوئی نہیں ابھی انہوں نے چکھی نہیں میری مار
10:۔ ء انزل الخ : یہ بھی ان کے بض وحسد اور عناد پر مبنی ہے۔ کیا ہم سب میں سے یہی اس لائق تھا کہ اس کو نبوت دی جاتی اور اس پر قرآن نازل کیا جاتا۔ ہم ایسے اشراف اور عظماء میں سے کوئی بھی اس مرتبے کے لائق نہ تھا ؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کا انکار محض حسد اور عناد کی وجہ سے تھا۔ وامثال ھذہ المقالات الباطلۃ دلیل علی ان مناط تکذیبہ لیس الا الھسد و قصر النظر علی حطام الدنیا (روح ج 23 ص 168) ۔ 11: بل ھم الخ : یہ ماقبل مذکورہ امور سے اضراب ہے یعنی ان کی تکذیب کے اصل وجوہ وہ نہیں جو اوپر مذکور ہوئے۔ وہ تو محض تکذیب کے لیے جھوٹے بہانے ہیں۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ اس قرآن ہی کے بارے میں شک میں سرگرداں ہیں جو دلائل توحید سے لبریز ہے یہی وجہ ہے کہ کبھی اسے جادو کہتے ہیں اور کبھی شعر سے تعبیر کرتے ہیں (روح) ۔ بل لما یذوقوا عذاب : یہ دونوں سے اضراب ہے یعنی ان کو نہ حسد مانع ہے نہ شک، بلکہ ابھی تک انہوں نے میرے عذاب کا مزہ نہیں چکھا۔ جب عذاب کا مزہ چکھ لیں گے تو نہ حسد رہے گا نہ شک بلکہ پورا پورا یقین آجائے گا لیکن بےسود ای لما یذوقوا عذابی بعد فاذا ذاقوہ زال عنہم ما بہم من الحسد والشک حینئذ (روح) ۔
Top