Madarik-ut-Tanzil - Al-Kahf : 56
وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ
وَوَهَبْنَا : اور ہم نے عطا فرمائے لَهٗٓ : اس کو اِسْحٰقَ : اسحق وَيَعْقُوْبَ : اور یعقوب وَجَعَلْنَا : ور ہم نے رکھی فِيْ ذُرِّيَّتِهِ : اس کی اولاد میں النُّبُوَّةَ : نبوت وَالْكِتٰبَ : اور کتاب وَاٰتَيْنٰهُ : اور ہم نے دیا اس کو اَجْرَهٗ : اس کا اجر فِي الدُّنْيَا : دنیا میں وَاِنَّهٗ : اور بیشک وہ فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں لَمِنَ الصّٰلِحِيْنَ : البتہ نیکو کاروں میں سے
اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز کو انکو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا ہے
رسول تو صرف مبشر ومنذر ہیں : 56: وَمَانُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ (اور ہم رسولوں کو بشارت دینے اور ڈرانے کیلئے بھیجتے ہیں) قراءت : اس پر وقف کیا جائے گا۔ اور جملہ وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْابِالْبَاطِلِ مستانفہ ہے (اور کافر ناحق باتیں پکڑ کر جھگڑے نکالتے ہیں) باطل سے مراد انکا وہ مشہور مقولہ ہے جو انہوں نے انبیاء ( علیہ السلام) کو کہا : ما انتم الا بشر مثلنا ولو شاء اللّٰہ لانزل ملائکۃ وغیر ذٰلک۔ کافر حق کو مٹانے کے لئے ان سے ناحق جھگڑتے ہیں : لِیُدْحِضُوْا بِہِ الْحَقَّ (تاکہ اس کے ذریعہ وہ حق بات کو پھسلا دیں) حق سے نبوت مراد ہے تاکہ وہ جھگڑا ڈال کر نبوت کے اثرات کو زائل اور باطل کردیں۔ وَاتَّخَذُوْا اٰیٰتِیْ (اور انہوں نے بنایا میری آیات کو) یعنی قرآن کو وَمَآ اُنْذِرُوْا (اور جس سے ان کو ڈرایا گیا) ماؔ موصولہ ہے۔ اور صلہ کی طرف راجع ضمیر محذوف ہے۔ یعنی جس عذاب سے ان کو ڈرایا گیا نمبر 2۔ ماؔ مصدریہ ہے اور انکا ڈرانا۔ ھُزُوًا (اس کا مذاق بنایا) استہزاء کی جگہ بنا لیا۔ قراءت : حمزہ نے زاء کے سکون اور ہمزہ سے پڑھا۔ حفص نے ہمزہ کو وائو سے بدل کر اور دیگر قراء نے راء کے ضمہ اور ہمزہ سے پڑھا ہے۔
Top