Madarik-ut-Tanzil - Saad : 33
رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ
رُدُّوْهَا : پھیر لاؤ انہیں عَلَيَّ ۭ : میرے سامنے فَطَفِقَ : پھر شروع کیا مَسْحًۢا : ہاتھ پھیرنا۔ صاف کرنا بِالسُّوْقِ : پنڈلیوں پر وَالْاَعْنَاقِ : اور گردنوں
(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے
گھوڑوں کا واپس لوٹا کر ذبح کرنا : 33: رُدُّوْھَا عَلَیَّ (ان گھوڑوں کو ذرا پھر تو میرے پاس لائو) ملائکہ کو کہا سورج کو واپس لائو تاکہ میں عصر کی نماز ادا کرلوں پس سورج لوٹا دیا گیا۔ اور آپ نے عصر کی نماز ادا کی۔ یا عمدہ گھوڑوں کو میری طرف واپس کردو۔ فَطَفِقَ مَسْحًام بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ (پس انہوں نے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کیا) پس چھونے لگے چھونا یعنی تلوار سے ان کی پنڈلیوں کو چھونے لگے۔ سوقؔ یہ جمع ساق کی ہے جیسا دار اور دور اور اعناق کو چھونے لگے۔ یعنی کاٹنے لگے۔ کیونکہ گھوڑے نماز عصر کیلئے رکاوٹ بنے تھے۔ تم کہو گے مسح عِلَاوَتَہُ جبکہ وہ اس کی گردن اڑا دے۔ اور مسح المسفر الکتاب جب کہ وہ اپنی تلوار سے اس کے اطراف کو کاٹ ڈالے۔ ایک قول یہ ہے : نمبر 1۔ یہ کفارئہ صلوٰۃ کیلئے کیا۔ نمبر 2۔ سورج لوٹانے کے شکریہ میں کیا۔ ان کی شریعت میں گھوڑا ما کو لات میں سے تھا۔ پس تلف کرنا نہ پایا گیا۔ ایک قول یہ ہے آپ نے ہاتھ سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو بطور استحسان اور پسندیدگی کے چھوا۔
Top