Tafseer-e-Majidi - Saad : 74
اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ
اِلَّآ : سوائے اِبْلِيْسَ ۭ : ابلیس اِسْتَكْبَرَ : اس نے تکبر کیا وَكَانَ : اور وہ ہوگیا مِنَ : سے الْكٰفِرِيْنَ : کافروں
مگر ہاں ابلیس نے (نہ کیا) وہ غرور میں آگیا اور کافروں میں سے ہوگیا،64۔
64۔ (اس صریح نافرمانی کے نتیجہ کے طور پر) عزازیل جس کا لقب بعد کو ابلیس پڑا فرشتہ نہ تھا، جن تھا، جیسا کہ سورة الکہف میں بصراحت مذکور ہے۔ تعظیم آدم کا حکم جب فرشتوں کو ہوا جو اشرف واعلیٰ تھے تو جنات جو ان سے پست وفروتر تھے اس حکم کے مخاطب بدرجہ والی ہوئے۔ (آیت) ” ابلیس “۔ ابلیس پر مفصل حاشیے سورة البقر (پ 1) اور سورة الکہف (پ 16) میں گزر چکے۔ (آیت) ” فسجد الملئکۃ “۔ حکم سجدہ سے ضروری نہیں کہ یہی متعارف واصطلاحی سجدہ مراد ہو۔ ہوسکتا ہے کہ مطلق انحناء اور محض تعظیم مراد ہو۔ حاشیے پہلے گزر چکے۔
Top