Anwar-ul-Bayan - Saad : 82
قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ
قَالَ : اس نے کہا فَبِعِزَّتِكَ : سو تیری عزت کی قسم لَاُغْوِيَنَّهُمْ : میں ضرور انہیں گمراہ کروں گا اَجْمَعِيْنَ : سب
کہنے لگا کہ مجھے تیری عزت کی قسم میں ان سب کو بہکاتا رہوں گا
(38:82) فبعزتک۔ الفاء للسببیۃ۔ (ابلیس کو مہلت مل جانا ہی عزم اغواء کا سبب ہے) ۔ باء قسمیہ ہے۔ عزتک مضاف مضاف الیہ۔ (جب تو نے مجھے مہلت دیدی) تو تیری عزت کی قسم ۔۔ لاغوینھم۔ لام تاکید کا ہے مضارع بانون ثقیلہ صیغہ واحد متکلم۔ اغواء (افعال) مصدر سے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب میں ان کو ضرور گمراہ کر دوں گا۔ اجمعین۔ سب کے سب کو۔ ساروں کو۔
Top