Tafseer-e-Mazhari - Maryam : 87
لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ
لَا يَمْلِكُوْنَ : وہ اختیار نہیں رکھتے الشَّفَاعَةَ : شفاعت اِلَّا : سوائے مَنِ اتَّخَذَ : جس نے لیا ہو عِنْدَ الرَّحْمٰنِ : رحمن کے پاس عَهْدًا : اقرار
(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو
لا یملکون الشفاعۃ الا من اتخذ عند الرحمن عہدا۔ وہاں کوئی سفارش کا اختیار نہیں رکھے گا مگر جس نے رحمن کے پاس (سے) اجازت لے لی ہے ‘ یعنی جن کے اندر ایسے اوصاہوں گے جو شفاعت کرنے کے لئے ضروری ہیں وہ شفاعت کرسکیں گے ‘ مراد یہ ہے کہ ایماندار نیکوکار ہوں تو اہل شفاعت ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ دوسری جگہ فرمایا ہے یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُہُمْ مِنْ فَضْلِہٖبقول ابن صالح حضرت ابن عباس ؓ نے مؤخر الذکر آیت کی تفسیر میں فرمایا یَسْتَجِیْبُیعنی ان کے بھائیوں کے لئے ان کی شفاعت قبول فرمائے گا ویزیدہم من فضلہ یعنی اپنی مہربانی سے بھائیوں کی بھائیوں کے حق میں شفاعت منظور فرما لے گا۔ یا عہداً سے مراد ہے اجازت ‘ اذن ‘ یعنی سوائے اس کے جس کو شفاعت کی اجازت مل جائے اور کوئی شفاعت نہیں کرسکتا۔ اسی مضمون کی دوسری آیت ہے مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ الاَّ بِاِذْنِہٖعربی محاورے میں بولا جاتا ہے عہد الامیر الی فلان بکذا۔ حاکم نے فلاں شخص کو ایسا کرنے کا حکم دیا۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَہْدًاسے ہر وہ شخص مراد ہے جو لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُکا قائل ہو اور من سے پہلے لفظ شفاعۃ محذوف ہے یعنی اِلَّا شَفَاعَۃَ مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَا الرَّحْمٰنِ عَہَدًا اور چونکہ لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہکا ہر قائل شفاعت کئے جانے کے قابل ہے ‘ اس لئے آیت میں لَاِ الٰہَ الاَّ اللّٰہُکا ہر قائل مراد لینا صحیح ہے اللہ نے تمام مؤمنوں سے مغفرت کا وعدہ کیا ہے فرمایا ہے مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیْعًا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ پر بندوں کا حق ہے کہ وہ غیر مشرک کو عذاب نہ دے (متفق علیہ من حدیث معاذ) اسی طرح کی ایک اور آیت آئی ہے فرمایا ہے لاَ یَشْفَعُوْنَ الاَّ لِمَنِ ارْتَضٰی۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ لاَ یَمْلِکُوْنَکی ضمیر المجرمین کی طرف لوٹ رہی ہے اور شفاعۃ سے مراد ہے سفارش یاب ہونا (مصدر مجہول) یعنی مجرم شفاعت یاب نہیں ہوں گے ہاں مؤمن شفاعت یاب ہوں گے جن کو اللہ نے وعدہ دے رکھا ہے۔
Top