Siraj-ul-Bayan - Yaseen : 14
اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ
اِذْ : جب اَرْسَلْنَآ : ہم نے بھیجے اِلَيْهِمُ : ان کی طرف اثْنَيْنِ : دو فَكَذَّبُوْهُمَا : تو انہوں نے جھٹلایا انہیں فَعَزَّزْنَا : پھر ہم نے تقویت دی بِثَالِثٍ : تیسرے سے فَقَالُوْٓا : پس انہوں نے کہا اِنَّآ : بیشک ہم اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف مُّرْسَلُوْنَ : بھیجے گئے
(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں
اذ ارسلنا الیھم اثنین فکذبوھما فعززنا بثالث فقالوا انا الیکم مرسلون جب ہم نے ان کے پاس دو (رسولوں) کو بھیجا ‘ ان لوگوں نے دونوں (رسولوں) کو جھوٹا قرار دیا تو ہم نے تیسرے (رسول) سے (ان دونوں کی) تائید کی ‘ سو تینوں نے کہا : ہم کو تمہارے پاس (ہدایت کیلئے) بھیجا گیا ہے۔ وہب نے کہا : پہلے دونوں قاصدوں کے نام یحییٰ اور یونس تھے ‘ تیسرے قاصد کا نام شمعون تھا۔ کذا اخرج ابن المنذور عن سعید بن جبیر۔ اگر کلام کی کوئی خاص غرض ہو تو کلام کی رفتار اسی مقصد کیلئے ہوتی ہے ‘ دوسری چیز کا ذکر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہاں اس لطیف تدبیر کا اظہار مقصود ہے جس کی وجہ سے حق غالب اور باطل نابود ہوگیا ‘ اس لئے عَزَّزْنَا کے بعد مفعول کا ذکر نہیں کیا۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ قتادہ نے کہا : مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عیسیٰ نے اہل قریہ کے پاس دو حواریوں کو بھیجا تھا۔ کعب نے کہا : پہلے دونوں قاصد صادق و مصدوق تھے اور تیسرا قاصد سل رم تھا۔ قاصدوں کو بھیجنے کی نسبت اللہ نے اپنی طرف کی (باوجودیکہ وہ قاصد حضرت عیسیٰ کے تھے) کیونکہ حضرت عیسیٰ نے ان کو بامر خداوندی بھیجا تھا۔ فَقَالُوْٓا یعنی تینوں قاصدوں نے انطاکیہ والوں سے کہا۔
Top