Tafseer-e-Mazhari - Saad : 2
بَلِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ
بَلِ : بلکہ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا : جن لوگوں نے کفر کیا (کافر) فِيْ عِزَّةٍ : گھمنڈ میں وَّشِقَاقٍ : اور مخالفت
مگر جو لوگ کافر ہیں وہ غرور اور مخالفت میں ہیں
بل الذین کفروا فی عزۃ وشقاق بلکہ (خود) یہ کافر تعصب اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کی عداوت اور آپ کی مخالفت میں ڈوبے ہوئے ہیں ‘ اسی لئے ایمان نہیں یاتے ‘ یا شقاق سے مراد ہے عقل و نقل کی مخالفت اور عزت سے مراد ہے جاہلیت کا تعصب اور قبول حق سے مغرورانہ سرکشی۔ قتادہ نے کہا : بَلْ اس جگہ (اعراض کیلئے نہیں ہے بلکہ ابتدائیہ ہے اور یہ جملہ قسم کا جواب ہے جیسے دوسری آیت میں آیا ہے : قٓ والْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِ- بَلْ عَجِبُوْٓا اَنْ جَآءَھُمْ مُنْذِرٌ مِّنْھُمْالخقتیبی نے کہا : بَلْ ایک کلام کے تدارک اور دوسرے کلام کی نفی کیلئے ہے ‘ کیونکہ اللہ نے آ والْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِکی قسم کھا کر فرمایا کہ (اہل مکہ میں سے) جو کافر ہیں ‘ وہ غرور اور مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں۔
Top