Tafheem-ul-Quran - Al-Baqara : 200
وَ اِذَا قِیْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ
وَاِذَا : اور جب قِيْلَ : کہا جائے لَهُ : اس کو اتَّقِ : ڈر اللّٰهَ : اللہ اَخَذَتْهُ : اسے آمادہ کرے الْعِزَّةُ : عزت (غرور) بِالْاِثْمِ : گناہ پر فَحَسْبُهٗ : تو کافی ہے اسکو جَهَنَّمُ : جہنم وَلَبِئْسَ : اور البتہ برا الْمِهَادُ : ٹھکانا
پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا واجداد کا ذکر کرتے تھے ، اُسی طرح اب اللہ کا ذکر و، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔221 (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے ربّ ، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے۔ ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں
سورة الْبَقَرَة 221 اہل عرب حج سے فارغ ہو کر منیٰ میں جلسے کرتے تھے، جن میں ہر قبیلے کے لوگ اپنے باپ دادا کے کارنامے فخر کے ساتھ بیان کرتے اور اپنی بڑائی کی ڈینگیں مارتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ ان جاہلانہ باتوں کو چھوڑو، پہلے جو وقت فضولیات میں صرف کرتے تھے اب اسے اللہ کی یاد اور اس کے ذکر میں صرف کرو۔ اس ذکر سے مراد زمانہ قیام منیٰ کا ذکر ہے۔
Top