Mazhar-ul-Quran - An-Nisaa : 17
وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا
وَاِذَا : اور جب حَضَرَ : حاضر ہوں الْقِسْمَةَ : تقسیم کے وقت اُولُوا الْقُرْبٰي : رشتہ دار وَالْيَتٰمٰى : اور یتیم وَالْمَسٰكِيْنُ : اور مسکین فَارْزُقُوْھُمْ : تو انہیں کھلادو (دیدو) مِّنْهُ : اس سے وَقُوْلُوْا : اور کہو لَھُمْ : ان سے قَوْلًا : بات مَّعْرُوْفًا : اچھی
وہ توبہ جس کا قبول کرنا اللہ نے اللہ نے اپنے فضل سے لازم کرلیا ہے وہ ان ہی کی ہے جو نادانی سے گناہ کر بیٹھیں، پھر جھٹ سے (فوراً ) توبہ کرلیں پس ایسے لوگوں پر خدا اپنی رحمت سے توجہ فرماتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا حکمت والا ہے
توبہ کب تک قبول ہوتی ہے ؟ توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے توبہ کر لیوے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوئی، اسی طرح غراٹا لگ جانے اور دم اکھڑ جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ توبہ قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ کرنا ضروری ہے۔
Top