Maarif-ul-Quran (En) - Yaseen : 14
اِذْ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمُ اثْنَیْنِ فَكَذَّبُوْهُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلَیْكُمْ مُّرْسَلُوْنَ
جبکہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے سے ان کو تقویت دی تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں
اِذْ اَرْسَلْنَـآ اِلَیْہِمُ اثْنَیْنِ فَکَذَّبُوْھُمَا فَعَزَّزْنَا بِثَالِثٍ فَقَالُوْٓا اِنَّـآ اِلَیْکُمْ مُّرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 14) (جبکہ ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے تو انھوں نے دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے سے ان کو تقویت دی تو انھوں نے لوگوں سے کہا کہ ہم تمہاری طرف رسول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں۔ ) تین رسولوں سے مراد ؟ انبیائے کرام کی تاریخ سے کسی قوم کی ہدایت کے لیے ایک سے زیادہ نبیوں کی بعثت غیرمعمولی واقعہ ہے۔ جس کی معروف مثال حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں پہلے دو رسولوں کا کسی بستی میں جانا اور پھر تیسرے رسول کا ان کی تقویت اور تائید کے لیے بھیجا جانا اس سے بھی زیادہ توجہ طلب معاملہ ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون جیسے خطرناک اور طاقتور دشمن کی طبیعت کی بےاعتدالی اور ظالمانہ خُو کو دیکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے تائید و نصرت کے لیے اپنے بھائی کو مانگ کرلیا تھا، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کے پیش آنے کی صورت میں باہمی مشاورت کرسکیں اور حالات کا سامنا کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرسکیں۔ بلاشبہ ہر پیغمبر کو اللہ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہوتی ہے۔ اور روح القدس ان کی تائید کے لیے موجود رہتے ہیں۔ باایں ہمہ انسانی فطرت بھی اپنے کوئی تقاضے رکھتی ہے۔ ایسی ہی صورتحال اس بستی کی بھی معلوم ہوتی ہے جس کی طرف محولہ بالا دو رسول بھیجے گئے تھے۔ جب ان بستی والوں نے ان کی دعوت قبول کرنے کی بجائے خطرناک اقدام کرنے کا فیصلہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اتمامِ حجت کے لیے تیسرے رسول کو بھی بھیج دیا، تاکہ تینوں ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہوں اور بستی والے بھی ان کی ہیبت محسوس کیے بغیر نہ رہ سکیں۔ لیکن جب اہل قریہ نے تینوں رسولوں کی تکذیب کردی تو انھوں نے تنبیہ کرتے ہوئے ان لوگوں سے کہا کہ ہماری تکذیب کرنے میں جلدی نہ کرو، اس بات پر غور کرلو کہ ہم خود سے تمہارے پاس نہیں آئے، ہم خالق کائنات کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ ہماری تکذیب کے نتائج پر تمہاری نظر رہنی چاہیے۔ اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارے ساتھ تمہارا ظالمانہ سلوک اللہ تعالیٰ کے غضب کو دعوت دے سکتا ہے اور کوئی بڑی بات نہیں کہ تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاؤ۔ کیونکہ جب بھی قوموں کی طرف عذاب آیا ہے تو اس کا بنیادی سبب رسولوں کی تکذیب ہی رہا ہے۔
Top