Ruh-ul-Quran - Saad : 64
اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠   ۧ
اِنَّ ذٰلِكَ : بیشک یہ لَحَقٌّ : بالکل سچ تَخَاصُمُ : باہم جھگڑتا اَهْلِ النَّارِ : اہل دوزخ
بیشک اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا اور توتکار واقعی حق اور امرواقعی ہے
اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَھْلِ النَّارِ ۔ (صٓ: 46) (بےشک اہل دوزخ کا آپس میں جھگڑا اور توتکار واقعی حق اور امرواقعی ہے۔ ) آیاتِ بالا میں اہل دوزخ کی جس باہمی توتکار اور جھگڑے کا ذکر فرمایا گیا ہے اسے کوئی شخص زیب داستان نہ سمجھے، یہ ایک حقیقت اور امرواقعی ہے۔ قیامت کے دن ایسا ہی ہوگا۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں مختلف کردار ادا کررہے ہیں، کوئی رہنمائی کا فرض انجام دے رہا ہے اور کوئی سپوٹ کررہا ہے۔ جب قیامت میں اپنے انجام کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے پر اس کی ذمہ داری ڈالیں گے۔ اور دونوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہیں گے۔ لیکن یہ جھگڑا اور باہمی لڑائی ان کے کسی کام نہیں آئے گی، دونوں اپنے بدترین تھکانوں کے حوالے کردیئے جائیں گے۔
Top