Fahm-ul-Quran - Saad : 39
هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ
ھٰذَا : یہ عَطَآؤُنَا : ہمارا عطیہ فَامْنُنْ : اب تو احسان کر اَوْ : یا اَمْسِكْ : روک رکھ بِغَيْرِ حِسَابٍ : حساب کے بغیر
یہ ہماری بےحساب بخشش ہے تو چاہو اس کو بخشو یا روکو۔
ھذا عطآء نا فامنن اوامک بغیر حساب (29) بغیر حساب کا تعلق ھذا عطائونا سے ہے۔ یعنی یہ عظیم نعمتیں تمہعارے قیاس و گمان اور تمہاری امیدوں اور توقعات سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں۔ تم خاب و خیال میں بھی ان کا تصور نہیں کرسکتے تھے۔ اہل تاویل کی ایک غلط فہمی فامنن اوملک یہ ان کے اس اختیار کا بیان ہے جو ہعر مالک کو اس کی ملکیت اور ہر بادشاہ کو اس کی مملکت میں حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم چاہو تو اس کو لوگوں پر خرچ کرو اور چار ہو تو اس پر مار گنج بن کر بیٹھ رہو، تم کو دونوں کا حق حاصل ہے۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ آزادی اور اختیارات تمہیں دونوں بالوں کے لئے حاصل ہے لیکن فیاضی کرو گے تو اس کا حق ادا کرو گے اور اس کا صلہ پائو گے او اگر خزانے کے سانپ بن کر اس پر مسلط ہو جائو گے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں، جس نے یہ سب کچھ تمہیں بخشا ہے، اپنا انجام دیکھو گے۔ یہ بالکل وہی بات حضرت سلیمان علیہ السلم کو مخاطب کر کے فرمائی گئی جو ذوالقرنین کو مخاطب کر کے ان الفاظ میں فرمائی گئی۔ قلنا یذا القرننی اما ان تعذب فامآ ان تتجدفیھم حسناً (الھف 86) ہم نے کہا، اے ذوالقرنین ! (ہم نے ان کو تمہایر اختیار میں دے دیا تو) اب چاہو ان کو سزا دو اور چاہو ان کے ساتھ حسن سلوک کرو۔ جن لوگوں نے اس آیت کا یہ مطلب لای ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دے کر لائسنس دے دیا تھا کہ وہ چاہیں کریں ان سے کوئی حساب کتاب نہیں ہو گ، انہوں نے بالکل غلط سمجھا یہ۔ دوسری باتوں سے قطع نظر اوپر آیت 26 میں حضرت دائود ؑ کو جو ہدایت ہوئی ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے، پھر غور فرمایئے کہ باپ کو یہ ہدیات دینے کے بعد بیٹے کو یہ کھلی چھٹی کس طرح دی جاسکتی ہے !
Top