Tadabbur-e-Quran - Saad : 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ
اِذْ قَالَ : جب کہا رَبُّكَ : تمہارا رب لِلْمَلٰٓئِكَةِ : فرشتوں کو اِنِّىْ : کہ میں خَالِقٌۢ : پیدا کرنے والا بَشَرًا : ایک بشر مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں
آیات استکبار کا شجرہ نسب یہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کرچکے ہیں۔ خاص طور پر اچھی طرح وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرہ نسب بیان کرنے کے لئے آیا ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتدا میں بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق کے ال فاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس پوری سورة میں رب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس ائٓینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کی پاداش میں وہ ملعون ہوا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اس کی سنت زندہ کرنا چاہتے ہیں تو اس انجام کے لئے بھی تیار ہیں جو ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا ہوگا۔
Top