تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 38. Saad · Ayah 71
اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ﴿71﴾
- اِذْ قَالَجب کہا
- رَبُّكَتمہارا رب
- لِلْمَلٰٓئِكَةِفرشتوں کو
- اِنِّىْکہ میں
- خَالِقٌۢپیدا کرنے والا
- بَشَرًاایک بشر
- مِّنْ طِيْنٍمٹی سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس وقت کو یاد کرو جب کہ تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیات
استکبار کا شجرہ نسب
یہ حضرت آدم ؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا بیان ہو رہا ہے جو پیچھے متعدد سورتوں میں جستہ جستہ بیان ہوا ہے اور ہم اس کے تمام پہلوئوں پر مفصل بحث کرچکے ہیں۔ خاص طور پر اچھی طرح وضاحت ہوچکی ہے۔ یہاں اس ماجرے کا حوالہ اس استکبار کا شجرہ نسب بیان کرنے کے لئے آیا ہے جس کا ذکر اس سورة کی ابتدا میں بل الذین کفروا فی عزۃ و شقاق کے ال فاظ سے ہوا ہے اور جس پر اس پوری سورة میں رب لگائی گئی ہے۔ گویا قریش کو اس ائٓینہ میں دکھایا گیا ہے کہ وہ جس گھمنڈ اور استکبار میں مبتلا ہو کر قرآن کی دعوت کو جھٹلا رہے ہیں یہ صالحین کی نہیں بلکہ ابلیس کی وراثت ہے۔ اس میں مبتلا ہو کر اس نے آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا جس کی پاداش میں وہ ملعون ہوا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اس کی سنت زندہ کرنا چاہتے ہیں تو اس انجام کے لئے بھی تیار ہیں جو ابلیس اور اس کی پیروی کرنے والوں کا ہوگا۔