Surah Introduction

تفہیم القرآن

Tafheem-ul-Quran · 38. Saad · Ayah 27

  1. وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ﴿27﴾

    1. وَاور
    2. مَا خَلَقْنَانہیں پیدا کیا ہم نے
    3. السَّمَآءَاور زمین
    4. وَالْاَرْضَاور زمین
    5. وَمَااور جو
    6. بَيْنَهُمَاان کے درمیان
    7. بَاطِلًا ۭباطل
    8. ذٰلِكَیہ
    9. ظَنُّگمان
    10. الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۚجن لوگوں نے کفر کیا
    11. فَوَيْلٌپس خرابی ہے
    12. لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْاان کے لیے جنہوں نے کفر کیا (کافر)
    13. مِنَسے
    14. النَّارِآگ
Translation · Tafheem-ul-Quran
ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کی درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں  کر دیا ہے۔ 29 یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کُفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنّم کی آگ سے
Tafseer · Tafheem-ul-Quran
سورة صٓ 29 یعنی محض کھیل کے طور پر پیدا نہیں کردیا ہے کہ اس میں کوئی حکمت نہ ہو، کوئی غرض اور مقصد نہ ہو، کوئی عدل اور انصاف نہ ہو، اور کسی اچھے یا برے فعل کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو۔ یہ ارشاد پچھلی تقریر کا ماحصل بھی ہے اور آگے کے مضمون کی تمہید بھی۔ پچھلی تقریر کے بعد یہ فقرہ ارشاد فرمانے سے مقصود یہ حقیقت سامعین سے ذہن نشین کرانا ہے کہ انسان یہاں شتر بےمہار کی طرح نہیں چھوڑ دیا گیا ہے، نہ یہ دنیا اندھیر نگری ہے کہ یہاں جس کا جو کچھ جی چاہے کرتا رہے اور اس پر کوئی باز پرس نہ ہو۔ آگے کے مضمون کی تمہید کے طور پر اس فقرے سے کلام کا آغاز کر کے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جو شخص جزا و سزا کا قائل نہیں ہے اور اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھا رہے کہ نیک و بد سب آخر کار مر کر مٹی ہوجائیں گے، کسی سے کوئی محاسبہ نہ ہوگا، نہ کسی کو بھلائی یا برائی کا کوئی بدلہ ملے گا، وہ دراصل دنیا کو ایک کھلونا اور اس کے بنانے والے کو کھلنڈرا سمجھتا ہے اور اس کا خیال یہ ہے کہ خالق کائنات نے دنیا بنا کر اور اس میں انسان کو پیدا کر کے ایک فعل عبث کا ارتکاب کیا ہے۔ یہی بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف طریقوں سے ارشاد فرمائی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُم عَبَثاً وَّ اَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (المومنون 115) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تم کو فضول پیدا کردیا ہے اور تم ہماری طرف پلٹائے جانے والے نہیں ہو ؟ وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ مَا خَلَقْنٰھُمَا اِلَّا بالْحَقِّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُھُمْ اَجْمَعِیْنَ (الدُّخان 38۔ 40) ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور کائنات کو جو ان کے درمیان ہے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا ہے۔ ہم نے ان کو بر حق پیدا کیا ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ درحقیقت فیصلے کا دن ان سب کے لیے حاضری کا وقت مقرر ہے۔