Siraj-ul-Bayan - Maryam : 55
فَمَنْۢ بَدَّلَهٗ بَعْدَ مَا سَمِعَهٗ فَاِنَّمَاۤ اِثْمُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یُبَدِّلُوْنَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌؕ
فَمَنْ : پھر جو بَدَّلَهٗ : بدل دے اسے بَعْدَ : بعد مَا : جو سَمِعَهٗ : اس کو سنا فَاِنَّمَآ : تو صرف اِثْمُهٗ : اس کا گناہ عَلَي : پر الَّذِيْنَ : جو لوگ يُبَدِّلُوْنَهٗ : اسے بدلا اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ سَمِيْعٌ : سننے والا عَلِيْمٌ : جاننے والا
اور اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ تھا (ف 2) ۔
2) یہودی اور عیسائی حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کی بزرگی کے قائل نہ تھے اس لئے قرآن حکیم نے خصوصیت سے انکا ذکر فرمایا اور بتایا کہ وہ کردار میں ایک اعلی پایہ کے بزرگ تھے ، مذہبی اور دینی جوش کا یہ عالم تھا کہ گھر کے تمام لوگوں کو نماز اور زکوۃ کی تلقین کرتے ، اس لئے ان اوصاف حسنہ کی وجہ سے وہ اللہ کے محبوب پیغمبر تھے ۔
Top