58. Al-Mujaadilaالمجادلة

The Pleading Woman · Medinan · 22 ayahs · 3 rukus · مولانا امین احسن اصلاحی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ﴿1﴾

    (اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو تم سے جھگڑتی تھی اپنے شوہر کے بارے میں اور شکوہ کر رہی تھی اللہ سے اور اللہ سن رہا تھا تم دونوں کی گفتگو، اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔
  2. اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ﴿2﴾

    تم میں سے جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتی ہیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہوں گی جنہوں نے ان کو جنا ہے، البتہ اس طرح کے لوگ ایک نہایت ناگوار اور جھوٹی بات کہتے ہیں اور اللہ در گزر فرمانے والا اور بخشنے والا ہے۔
  3. وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿3﴾

    اور جو لوگ ظہار کر بیٹھیں اپنی بیویوں سے پھر لوٹیں اسی چیز کی طرف جس کو حرام ٹھہرایا تو ایک گردن کو آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ وہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جارہی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر رہتا ہے۔
  4. فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ﴿4﴾

    پس جس کو غلام میسر نہ آئے تو اس کے اوپر لگاتار دو مہینے کے روزے ہیں، ہاتھ لگانے سے پہلے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے اس کے ذمہ یہ اس لیے کہ اللہ اور اس کے رسول پر تمہارا ایمان راسخ ہو۔ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے۔
  5. اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ﴿5﴾

    جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں وہ ذلیل ہوں گے جس طرح ان سے پہلے ان کے ہم مشرب ذلیل ہوئے اور ہم نے نہایت واضح تنبیہات اتار دی ہیں اور کافروں کے لیے نہایت سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
  6. یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ع﴿6﴾

    اس دن کو یاد رکھیں جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا اور ان کو ان کے سارے اعمال سے آگاہ کرے گا۔ اللہ نے اس کو شمار کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھلائے بیٹھے ہیں اور اللہ ہر چیز کے پاس حاضر ہے۔
  7. اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ﴿7﴾

    کیا سمجھتے نہیں کہ اللہ جانتا ہے اس سارے کو جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے ! نہیں ہوتی کوئی سرگوشی تین کے درمیان مگر ان کا چوتھا اللہ ہوتا ہے اور نہ پانچ کے مابین مگر چھٹا وہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم یا زیادہ کی مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں پھر وہ ان کو ان کے سارے کیے سے آگاہ کرے گا قیامت کے دن، بیشک اللہ ہر بات کا علم رکھنے والا ہے۔
  8. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ﴿8﴾

    کیا نہیں دیکھتے ان کو جو سرگوشیوں سے روکے گئے، پھر وہ وہی کام کر رہے ہیں جن سے روکے گئے اور یہ لوگ گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تم کو سلام کرتے ہیں ایسے لفظ سے جس سے اللہ نے تم کو سلام نہیں بھیجا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ اس کی پاداش میں ہم کو عذاب کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں۔ انکے لیے جہنم ہی کافی ہے۔ یہ اس میں پڑیں گے۔ پس وہ برا ٹھکانا ہے۔
  9. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ﴿9﴾

    اے ایمان والو ! جب تم سرگوشی کرو تو گناہ، تعدی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو بلکہ نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کے حضور میں تم سب اکٹھے کیے جائو گے۔
  10. اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿10﴾

    یہ سرگوشیاں شیطان کی طرف سے ہیں تاکہ وہ ایمان والوں کو غم پہنچائے حالانکہ اللہ کے اذن کے بدون وہ ان کو ذرا بھی نقصان پہنچانے پر قادر نہیں اور ایمان والوں کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
  11. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴿11﴾

    اے ایمان والو ! جب تم کو کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل کر بیٹھو تو کھل کر بیٹھو، اللہ تمہارے لیے کشادگی پیدا کرے گا اور جب کہا جائے کہ اٹھ جائو تو اٹھ جائو، اللہ ان لوگوں کے، جو تم میں سے اہل ایمان ہیں اور جن کو علم عطا ہوا ہے، مدارج بلند کرے گا اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
  12. یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴿12﴾

    (اے ایمان والو، جب تمہیں رسول سے راز دار انہ بات کرنی ہو تو اپنی راز دارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ کرو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر اور زیادہ پاکیزہ ہے۔ پس اگر اس کی استطاعت نہ پائو تو اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے۔
  13. ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ع﴿13﴾

    کیا تم اس بات سے اندیشہ ناک ہوئے کہ اپنی راز دارانہ باتوں سے پہلے صدقے پیش کرو۔ پس جب تم نے یہ نہیں کیا اور اللہ نے تم پر رحم فرمایا تو نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
  14. اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ﴿14﴾

    (کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اس قوم سے دوستی رکھنے ہیں جس پر اللہ کا غضب ہوا ! یہ لوگ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ جھوٹی بات پر جانتے بوجھتے قسم کھاتے ہیں۔
  15. اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿15﴾

    اللہ نے ان کے لیے ایک سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ بیشک نہایت برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔
  16. اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ﴿16﴾

    انہوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا رکھا ہے اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں تو ان کے لیے ایک ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
  17. لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿17﴾

    ان کے مال اور ان کی اولاد ان کو اللہ کے عذاب سے ذرا بھی بچانے والے نہیں بنیں گے۔ یہ لوگ دوزخ والے ہیں یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
  18. یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ﴿18﴾

    جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس سے بھی اسی طرح قسم کھائیں گے جس طرح تم سے کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ وہ ایک بنیاد پر ہیں۔ آگاہ ہو کہ یہ لوگ بالکل ہی جھوٹے ہیں۔
  19. اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ﴿19﴾

    ان پر شیطان مسلط ہوگیا ہے پس اس نے ان کو خدا کی یاد بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطان کی پارٹی ہیں، سن لو کہ شیطان کی پارٹی ہی نامراد ہونے والی ہے۔
  20. اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ﴿20﴾

    جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے بر سر مخالفت ہیں، وہی لوگ ذلیل ہونے والوں میں ہوں گے۔
  21. كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ﴿21﴾

    اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ بیشک میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بیشک اللہ قوی و عزیز ہے۔
  22. لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ع﴿22﴾

    تم کوئی ایسی قوم نہیں پا سکتے جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتی ہو اور وہ دوستی رکھے ان سے جو اللہ اور اس کے رسول سے برسر مخالفت ہوں اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا اہل کنبہ ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت فرما دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک فیضان خاص سے ان کی تائید فرمائی ہے اور ان کو داخل کرے گا ایسے باغوں میں جن کے اندر نہریں جاری ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہی لوگ اللہ کی پارٹی ہیں، سن رکھو کہ اللہ کی پارٹی ہی فلاح پانے والے ہے۔