50. Qaafق

The letter Qaaf · Meccan · 45 ayahs · 3 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

  1. قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ﴿1﴾

    ق، قرآن مجید کی قسم ! (ان کافروں نے پیغمبر کو کسی دلیل کی وجہ سے نہیں جھٹلایا)
  2. بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ﴿2﴾

    بلکہ انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کوئی (آخرت سے) ڈرانے والا خود انہی میں سے (کیسے) آگیا، چنانچہ ان کافروں نے یہ کہا ہے کہ : یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔
  3. ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ﴿3﴾

    بھلا کیا ہم مر کھپ جائیں اور مٹی ہوجائیں گے، (اس وقت ہمیں پھر زندہ کیا جائے گا ؟) یہ واپسی تو ہماری سمجھ سے دور ہے۔
  4. قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ﴿4﴾

    واقعہ تو یہ ہے کہ زمین ان کے جن حصوں کو (کھا کر) گھٹا دیتی ہے ہمیں ان کا پورا علم ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو سب کچھ محفوظ رکھتی ہے۔
  5. بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ﴿5﴾

    دراصل انہوں نے سچ کو اسی وقت جھٹلا دیا تھا جب وہ ان کے پاس آیا تھا، چنانچہ وہ متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہیں۔
  6. اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ﴿6﴾

    بھلا کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اسے کیسے بنایا ہے ؟ اور ہم نے اسے خوبصورتی بخشی ہے، اور اس میں کسی قسم کے رخنے نہیں ہیں۔
  7. وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ﴿7﴾

    اور زمین ہے کہ ہم نے اسے پھیلا دیا ہے اور اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں، اور اس میں ہر طرح کی خوشنما چیزیں اگائی ہیں۔
  8. تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ﴿8﴾

    تاکہ وہ اللہ سے لو لگانے والے ہر بندے کے لیے بصیرت اور نصیحت کا سامان ہو۔
  9. وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ﴿9﴾

    اور ہم نے آسمان سے برکتوں والا پانی اتارا، پھر اس کے ذریعے باغات اور وہ اناج کے دانے اگائے جن کی کٹائی ہوتی ہے۔
  10. وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ﴿10﴾

    اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن میں تہہ بر تہہ خوشے ہوتے ہیں۔
  11. رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ﴿11﴾

    تاکہ ہم بندوں کو رزق عطا کریں اور (اس طرح) ہم نے اس پانی سے ایک مردہ پڑے ہوئے شہر کو زندگی دے دی، بس اسی طرح (انسانوں کا قبروں سے) نکلنا بھی ہوگا۔
  12. كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ﴿12﴾

    ان سے پہلے نوح کی قوم اور اصحاب الرس اور ثمود کے لوگوں نے بھی (اس بات کو) جھٹلایا تھا۔
  13. وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ﴿13﴾

    نیز قوم عاد اور قوم فرعون اور لوط کے بھائیوں نے بھی۔
  14. وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ﴿14﴾

    اور اصحاب الایکہ اور تبع قوم نے بھی۔ ان سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا، اس لیے میں نے جس عذاب سے ڈرایا تھا، وہ سچ ہو کر رہا۔
  15. اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ع﴿15﴾

    بھلا کیا ہم پہلی بات پیدا کرنے سے تھک گئے تھے ؟ نہیں ! لیکن یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کے بارے میں دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔
  16. وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ﴿16﴾

    اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے، اور اس کے دل میں جو خیالات آتے ہیں، ان (تک) سے ہم خوب واقف ہیں، اور ہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
  17. اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ﴿17﴾

    اس وقت بھی جب (اعمال کو) لکھنے والے دو فرشتے لکھ رہے ہوتے ہیں۔ ایک دائیں جانب اور دوسرا بائیں جانب بیٹھا ہوتا ہے۔
  18. مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ﴿18﴾

    انسان کوئی لفظ زبان سے نکال نہیں پاتا، مگر اس پر ایک نگران مقرر ہوتا ہے، ہر وقت (لکھنے کے لیے) تیار۔
  19. وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ﴿19﴾

    اور موت کی سختی سچ مچ آنے ہی والی ہے۔ (اے انسان) یہ وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا تھا۔
  20. وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ﴿20﴾

    اور صورت پھونکا جانے والا ہے۔ یہ وہ دن ہوگا جس سے ڈرایا جاتا تھا۔
  21. وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ﴿21﴾

    اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا ہوگا، اور ایک گواہی دینے والا
  22. لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ﴿22﴾

    حقیقت یہ ہے کہ تو اس واقعے کی طرف سے غفلت میں پڑا ہوا تھا، اب ہم نے تجھ سے وہ پردہ ہٹا دیا ہے جو تجھ پر پڑا ہوا تھا۔ چنانچہ آج تیری نگاہ خوب تیز ہوگئی ہے۔
  23. وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ﴿23﴾

    اور اس کا ساتھی کہے گا کہ : یہ ہے وہ (اعمال نامہ) جو میرے پاس تیار ہے۔
  24. اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ﴿24﴾

    (حکم دیا جائے گا کہ) تم دونوں ہر اس شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کٹر کافر اور حق کا پکا دشمن تھا۔
  25. مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ﴿25﴾

    جو دوسروں کو بھلائی سے روکنے کا عادی، بےحد زیادتی کرنے والا اور (حق بات میں) شک ڈالنے والا تھا۔
  26. اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ﴿26﴾

    جس نے اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود بنا رکھا تھا۔ لہذا اب تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈال دو۔
  27. قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ﴿27﴾

    اس کا ساتھی کہے گا کہ : اے ہمارے پروردگار ! میں نے اسے گمراہ نہیں کیا تھا، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔
  28. قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ﴿28﴾

    اللہ تعالیٰ کہے گا کہ : تم میرے سامنے جھگڑے نہ کرو، اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس عذاب کی دھمکی بھیج چکا تھا۔
  29. مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ع﴿29﴾

    میرے سامنے وہ بات بدلی نہیں جاسکتی اور میں بندوں پر کوئی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔
  30. یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ﴿30﴾

    وہ وقت (یاد رکھو) جب ہم جہنم سے کہیں گے کہ : کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کہ : کیا کچھ اور بھی ہے ؟
  31. وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ﴿31﴾

    اور پرہیزگاروں کے لیے جنت اتنی قریب کردی جائے گی کہ کچھ بھی دور نہیں رہے گی۔
  32. هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ﴿32﴾

    (اور کہا جائے گا کہ) یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے یہ وعدہ کیا جاتا تھا کہ وہ ہر اس شخص کے لیے ہے جو اللہ سے خوب لو لگائے ہوئے ہو، (اور) اپنی نگرانی رکھنے والا ہو۔
  33. مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ﴿33﴾

    جو خدائے رحمن سے اسے دیکھے بغیر ڈرتا ہو، اور اللہ کی طرف رجوع ہونے والا دل لے کر آئے۔
  34. اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ﴿34﴾

    تم سب اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔ وہ دن ابدی زندگی کا دن ہوگا۔
  35. لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ﴿35﴾

    ان (جنتیوں) کو وہ سب کو کچھ ملے گا جو وہاں وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس کچھ اور زیادہ بھی ہے۔
  36. وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ﴿36﴾

    اور ان (مکہ کے کافروں) سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جن کی طاقت پر گرفت ان سے زیادہ سخت تھی، چنانچہ انہوں نے سارے شہر چھان مارے تھے۔ کیا ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ تھی ؟
  37. اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ﴿37﴾

    یقینا اس میں اس شخص کے لیے بڑی نصیحت کا سامان ہے جس کے پاس دل ہو، یا جو حاضر دماغ بن کر کان دھرے۔
  38. وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ﴿38﴾

    اور ہم نے سارے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا، اور ہمیں ذرا سی تھکاوٹ بھی چھو کر نہیں گزری۔
  39. فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ﴿39﴾

    لہذا (اے پیغمبر) جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں تم اس پر صبر کرو، اور اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے رہو، سورج نکلنے سے پہلے بھی، اور سورج ڈوبنے سے پہلے بھی۔
  40. وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ﴿40﴾

    اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح کرو۔ اور سجدوں کے بعد بھی۔
  41. وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ﴿41﴾

    اور ذرا توجہ سے سنو ! جس دن ایک پکارنے والا ایک قریبی جگہ سے پکارے گا۔
  42. یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ﴿42﴾

    جس دن لوگ سچ مچ اس پکار کی آواز سنیں گے، وہ قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔
  43. اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَ نُمِیْتُ وَ اِلَیْنَا الْمَصِیْرُۙ﴿43﴾

    یقین رکھو ہم ہی ہیں جو زندگی بھی دیتے ہیں اور موت بھی اور آخر کار سب کو ہمارے پاس ہی لوٹنا ہے۔
  44. یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا١ؕ ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ﴿44﴾

    اس دن جب زمین پھٹ کر ان کو اس طرح باہر کردے گی کہ وہ جلدی جلدی نکل رہے ہوں گے۔ اس طرح سب کو جمع کرلینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔
  45. نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِجَبَّارٍ١۫ فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۠ع﴿45﴾

    جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے اور (اے پیغمبر) تم ان پر زبردستی کرنے والے نہیں ہو۔ لہذا قرآن کے ذریعے ہر اس شخص کو نصیحت کرتے رہو جو میری وعید سے ڈرتا ہو۔