51. Adh-Dhaariyatالذاريات
The Winnowing Winds · Meccan · 60 ayahs · 3 rukus · مفتی محمد تقی عثمانی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ﴿1﴾
قسم ہے ان (ہواؤں) کی جو گرد اڑا کر بکھیر دیتی ہیں۔فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ﴿2﴾
پھر ان کی جو (بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔فَالْجٰرِیٰتِ یُسْرًاۙ﴿3﴾
پھر ان کی جو آسانی سے رواں دواں ہوجاتی ہیں۔فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًاۙ﴿4﴾
پھر ان کی جو چیزیں تقسیم کرتی ہیں۔اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌۙ﴿5﴾
کہ جو وعدہ تم سے کیا جارہا ہے وہ یقینی طور پر سچا ہے۔وَّ اِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌؕ﴿6﴾
اور اعمال کا بدلہ یقینا مل کر رہے گا۔وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الْحُبُكِۙ﴿7﴾
قسم ہے راستوں والے آسمان کی۔اِنَّكُمْ لَفِیْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍۙ﴿8﴾
کہ تم متضاد باتوں میں پڑے ہوئے ہو۔یُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَؕ﴿9﴾
اس (آخرت کی حقیقت) سے وہی منہ موڑتا ہے جو حق سے بالکل ہی مڑا ہوا ہے۔قُتِلَ الْخَرّٰصُوْنَۙ﴿10﴾
خدا کی مار ہو ان پر جو (عقیدے کے معاملے میں) اٹکل پیچوں باتیں بنایا کرتے ہیں۔الَّذِیْنَ هُمْ فِیْ غَمْرَةٍ سَاهُوْنَۙ﴿11﴾
جو غفلت میں ایسے ڈوبے ہیں کہ سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں۔یَسْئَلُوْنَ اَیَّانَ یَوْمُ الدِّیْنِؕ﴿12﴾
پوچھتے ہیں کہ : جزاء و سزا کا دن کب ہوگا ؟یَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ یُفْتَنُوْنَ﴿13﴾
اس دن ہوگا جب انہیں آگ پر تپایا جائے گا۔ذُوْقُوْا فِتْنَتَكُمْ١ؕ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ﴿14﴾
کہ چکھو مزہ اپنی شرارت کا۔ یہی ہے وہ چیز جس کے بارے میں تم یہ مطالبہ کرتے تھے کہ وہ جلدی آجائے۔اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍۙ﴿15﴾
متقی لوگ بیشک باغوں اور چشموں میں اس طرح رہیں گے۔اٰخِذِیْنَ مَاۤ اٰتٰىهُمْ رَبُّهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُحْسِنِیْنَؕ﴿16﴾
کہ ان کا پروردگار انہیں جو کچھ دے گا، اسے وصول کر رہے ہوں گے۔ وہ لوگ اس سے پہلے ہی نیک عمل کرنے والے تھے۔كَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ الَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ﴿17﴾
وہ رات کے و قت کم سوتے تھے۔وَ بِالْاَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ﴿18﴾
اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے تھے۔وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَ الْمَحْرُوْمِ﴿19﴾
اور ان کے مال و دولت میں سائلوں اور محروم لوگوں کا (باقاعدہ) حق ہوتا تھا۔وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَۙ﴿20﴾
اور ان کے لیے جو یقین کرنے والے ہوں، زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں۔وَ فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ﴿21﴾
اور خود تمہارے اپنے وجود میں بھی۔ کیا پھر بھی تمہیں دکھائی نہیں دیتا ؟وَ فِی السَّمَآءِ رِزْقُكُمْ وَ مَا تُوْعَدُوْنَ﴿22﴾
اور آسمان ہی میں تمہارا رزق بھی ہے اور وہ چیز بھی جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔فَوَرَبِّ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَاۤ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ۠ع﴿23﴾
لہذا آسمان اور زمین کے پروردگار کی قسم ! یہ بات یقینا ایسی ہی سچی ہے جیسے یہ بات کہ تم بولتے ہو۔هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ الْمُكْرَمِیْنَۘ﴿24﴾
(اے پیغمبر) کیا ابراہیم کے معزز مہمانوں کا واقعہ تمہیں پہنچا ہے ؟اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ١ۚ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَۚ﴿25﴾
جب وہ ابراہیم کے پاس آئے تو انہوں نے سلام کہا۔ ابراہیم نے بھی سلام کہا۔ (اور دل میں سوچا کہ) یہ کچھ انجان لوگ ہیں۔فَرَاغَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ فَجَآءَ بِعِجْلٍ سَمِیْنٍۙ﴿26﴾
پھر چپکے سے اپنے گھر والوں کے پاس گئے اور ایک موٹا سا بچھڑا لے آئے۔فَقَرَّبَهٗۤ اِلَیْهِمْ قَالَ اَلَا تَاْكُلُوْنَ٘﴿27﴾
اور اسے ان مہمانوں کے سامنے رکھا۔ کہنے لگے : کیا آپ لوگ کھاتے نہیں ؟فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ١ؕ وَ بَشَّرُوْهُ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ﴿28﴾
اس سے ابراہیم نے ان کی طرف سے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا۔ انہوں نے کہا : ڈرییے نہیں، اور انہیں ایک لڑکے کی خوشخبری دی جو بڑا عالم ہوگا۔فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِیْ صَرَّةٍ فَصَكَّتْ وَجْهَهَا وَ قَالَتْ عَجُوْزٌ عَقِیْمٌ﴿29﴾
اس پر ان کی بیوی زور سے بولتی ہوئی آئیں، اور انہوں نے اپنا چہرہ پیٹ لیا اور کہنے لگیں (کیا) ایک بانجھ بڑھیا (بچہ جنے گی ؟)قَالُوْا كَذٰلِكِ١ۙ قَالَ رَبُّكِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ﴿30﴾
مہمانوں نے کہا : تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے۔ یقین جانو وہی ہے جو بڑی حکمت کا، بڑے علم کا مالک ہے۔قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَیُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ﴿31﴾
ابراہیم نے کہا : اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتو ! تم کس مہم پر ہو ؟قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِیْنَۙ﴿32﴾
انہوں نے کہا : ہمیں کچھ مجرم لوگوں کے پاس بھیجا گیا ہے۔لِنُرْسِلَ عَلَیْهِمْ حِجَارَةً مِّنْ طِیْنٍۙ﴿33﴾
تاکہ ہم ان پر پکی مٹی کے پتھر برسائیں۔مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِیْنَ﴿34﴾
جن پر حد سے گزرے ہوئے لوگوں کے لیے تمہارے پروردگار کے پاس سے خاص نشان بھی لگا ہوگا۔فَاَخْرَجْنَا مَنْ كَانَ فِیْهَا مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ﴿35﴾
پھر ہوا یہ کہ اس بستی میں جو کوئی مومن تھا اس کو ہم نے وہاں سے نکال لیا۔فَمَا وَجَدْنَا فِیْهَا غَیْرَ بَیْتٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَۚ﴿36﴾
اور اس میں ایک گھر کے سوا ہم نے کسی اور گھر کو مومن نہیں پایا۔وَ تَرَكْنَا فِیْهَاۤ اٰیَةً لِّلَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ الْعَذَابَ الْاَلِیْمَؕ﴿37﴾
اور ہم نے اس بستی میں ان لوگوں کے لیے (عبرت کی) ایک نشانی چھوڑ دی جو دردناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔وَ فِیْ مُوْسٰۤى اِذْ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى فِرْعَوْنَ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ﴿38﴾
اور موسیٰ (کے واقعے) میں بھی (ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے انہیں ایک کھلی ہوئی دلیل کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا تھا۔فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ وَ قَالَ سٰحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ﴿39﴾
تو فرعون نے اپنی قوت بازو کے بل پر منہ موڑا، اور کہا کہ : یہ جادوگر ہے یا دیوانہ ہے۔فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ وَ هُوَ مُلِیْمٌؕ﴿40﴾
چنانچہ ہم نے اسے اور اس کے لشکر کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا، اور وہ تھا ہی ملامت کے لائق۔وَ فِیْ عَادٍ اِذْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَۚ﴿41﴾
نیز قوم عاد میں (بھی ہم نے ایسی ہی نشانی چھوڑی تھی) جب ہم نے ان پر ایک ایسی آندھی بھیجی جو ہر بہتری سے بانجھ دی۔مَا تَذَرُ مِنْ شَیْءٍ اَتَتْ عَلَیْهِ اِلَّا جَعَلَتْهُ كَالرَّمِیْمِؕ﴿42﴾
وہ جس چیز پر بھی گزرتی، اسے ایسا کر چھوڑتی، جیسے وہ گل کر چورا چورا ہوگئی ہو۔وَ فِیْ ثَمُوْدَ اِذْ قِیْلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوْا حَتّٰى حِیْنٍ﴿43﴾
اور ثمود میں بھی (ایسی ہی نشانی تھی) جب ان سے کہا گیا تھا کہ : تھوڑے وقت تک مزے اڑا لو۔ (پھر سیدھے نہ ہوئے تو عذاب آئے گا)فَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ فَاَخَذَتْهُمُ الصّٰعِقَةُ وَ هُمْ یَنْظُرُوْنَ﴿44﴾
اس پر بھی انہوں نے اپنے پروردگار کا حکم ماننے سے سرکشی اختیار کی تو انہیں کڑک نے آپکڑا اور وہ دیکھتے رہ گئے۔فَمَا اسْتَطَاعُوْا مِنْ قِیَامٍ وَّ مَا كَانُوْا مُنْتَصِرِیْنَۙ﴿45﴾
نتیجہ یہ کہ نہ تو ان میں یہ سکت رہی کہ کھڑے ہوسکیں اور نہ وہ اس قابل تھے کہ اپنا بچاؤ کرتے۔وَ قَوْمَ نُوْحٍ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ۠ع﴿46﴾
اور اس سے بھی پہلے نوح کی قوم کو بھی ہم نے پکڑ میں لیا تھا۔ یقین جانو وہ بڑے نافرمان لوگ تھے۔وَ السَّمَآءَ بَنَیْنٰهَا بِاَیْىدٍ وَّ اِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ﴿47﴾
اور آسمان کو ہم نے قوت سے بنایا ہے، اور ہم یقینا وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔وَ الْاَرْضَ فَرَشْنٰهَا فَنِعْمَ الْمٰهِدُوْنَ﴿48﴾
اور زمین کو ہم نے فرش بنایا، چنانچہ ہم کیا خوب بچھانے والے ہیں۔وَ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ﴿49﴾
اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے پیدا کیے ہیں، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔فَفِرُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿50﴾
لہذا دوڑو اللہ کی طرف یقین جانو، میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔وَ لَا تَجْعَلُوْا مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ؕ اِنِّیْ لَكُمْ مِّنْهُ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ﴿51﴾
اور اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بناؤ۔ یقین جانو میں اس کی طرف سے تمہارے لیے صاف صاف خبردار کرنے والا (بن کر آیا) ہوں۔كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌۚ﴿52﴾
اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے ان کے پاس بھی کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کے بارے میں انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ : جادوگر ہے، یا دیوانہ ہے۔اَتَوَاصَوْا بِهٖ١ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ﴿53﴾
کیا یہ ایک دوسرے کو اس بات کی وصیت کرتے چلے آئے ہیں ؟ نہیں، بلکہ یہ سرکش لوگ ہیں۔فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَاۤ اَنْتَ بِمَلُوْمٍ٢ۗ٘﴿54﴾
لہذا (اے پیغمبر) تم ان سے بےرخی اختیار کرو، کیونکہ تم قابل ملامت نہیں ہو۔وَّ ذَكِّرْ فَاِنَّ الذِّكْرٰى تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ﴿55﴾
اور نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کو فائدہ دیتی ہے۔وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ﴿56﴾
اور میں نے جنات اور انسانوں کو اس کے سوا کسی اور کام کے لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔مَاۤ اُرِیْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ وَّ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ یُّطْعِمُوْنِ﴿57﴾
میں ان سے کسی قسم کا رزق نہیں چاہتا، اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں۔اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِیْنُ﴿58﴾
اللہ تو خود ہی رزاق ہے، مستحکم قوت والا۔فَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذَنُوْبًا مِّثْلَ ذَنُوْبِ اَصْحٰبِهِمْ فَلَا یَسْتَعْجِلُوْنِ﴿59﴾
اب تو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کی بھی ایسی ہی باری آئے گی جیسے ان کے (پچھلے) ساتھیوں کی باری آئی تھی، اس لیے وہ مجھ سے جلدی (عذاب لانے) کا مطالبہ نہ کریں۔فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ یَّوْمِهِمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ۠ع﴿60﴾
غرض جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے، ان کی اس دن کی وجہ سے بڑی خرابی ہوگی جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔